قادیانیفتنہ
قادیانیوںسےمیلجولرکھنا
سوال:۔
میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے، محلہ کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی غمی میں شریک ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا، میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، والد صاحب انتقال کرچکے ہیں، والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے، میرا اصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی گھر کو مدعو نہ کریں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اب سوال ہے کہ میرے لئے شریعت اور اسلامی اَحکامات کی رُو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا۔ اس صورتِ حال میں جو بات صائب ہو، اس سے براہِ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔
جواب:۔
قادیانی مرتد اور زِندیق ہیں،(۱) اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دِینی غیرت کے خلاف ہے، اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں،(۲)ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے، واﷲ اعلم!
- (۱) الزندقۃ کفر، والزندیق کافر لأنہ مع وجود الْإعتراف بنبوۃ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی عقائدہ کفر وھٰذا بالْإتفاق۔ (موسوعۃ نضرۃ النعیم ج:۱ ص:۴۵۸۵، طبع بیروت)۔
- (۲) لَا تحابوا ھل القدر أی لَا توادوھم ولَا تحابوھم فان المجالسۃ ونحوھا من الممشاۃ من علامات المحبۃ وامارات المودّۃ فالمعنٰی لَا تجالسوھم مجالسۃ تأینس وتعظیم لھم۔ (المرقاۃ شرح المشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۰۹)۔ ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ ﵞ۔۔۔‘‘ وفی ھٰذہ الآیۃ دلَالۃ علٰی ان الکافر لَا یکون ولیًّا للمسلم لَا فی التصرف ولَا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البراءۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر كلہ ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی: بعضھم أولیاء بعض۔ (أحکام القرآن للجصَّاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی)۔

