بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

قادیانی‌رشتہ‌داروں‌سے‌ملنا‌جلنا‌اور‌اُن‌کے‌ساتھ‌کھانا‌پینا

سوال:۔

زید کے ننھیالی مرزائی ہیں، وہ لوگ آٹھ بھائی ہیں، ان کا باپ مرزائی ہوا تھا، اب ان لوگوں میں سے چھ بھائی جرمنی جاچکے ہیں، دو بھائی ربوہ میں رہتے ہیں۔ زید اور اس کا خاندان مسلمان ہیں اور اپنے ماموں جو کہ سب کے سب مرزائی ہیں، ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، ایک دُوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں۔

زید کا کہنا ہے کہ ہم اکٹھے کھاتے پیتے ہیں، وہ کافر ہیں اور بخاری شریف کا حوالہ دیتا ہے کہ کافر کے ساتھ ایک برتن میں کھانا جائز ہے، ملنا جلنا بھی جائز ہے، تحائف کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ ان کی والدہ کا اصرار ہے کہ مجھے ان سے ملنا ہے اور وہ یہاں آتے رہیں گے، ورنہ میں گھر چھوڑ دیتی ہوں۔

دُوسری بات زید یہ کہتا ہے کہ ہم ان کی اصلاح کے لئے ایسا کر رہے ہیں، جب ضرورت ہوتی ہے تو ان سے مالی مدد بھی لیتے ہیں، یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے، جس پر عام لوگ نالاں ہیں۔ علاوہ ازیں زید کا کہنا ہے کہ ان کا باپ مرزائی ہوا تھا، وہ مرتد تھا، لیکن یہ اس کی اولاد ہے جو کہ مرتد نہیں بلکہ کافر ہے۔ بعض اوقات وہ نماز بھی پڑھاتے ہیں اور کبھی کبھی جمعہ بھی پڑھاتے ہیں۔ اس طرح کچھ لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کرتے ہیں، اور دُوسرے لوگوں کو بھی ان کے ساتھ کھانے پینے، میل جول نہ رکھنے اور نماز نہ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا حالات کی روشنی میں قرآن و سنت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، فقہائے عظام اور علمائے اُمت کے فیصلوں کی روشنی میں وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں کہ ان لوگوں سے میل جول، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ وہ اپنے ننھیالیوں سے ملنے پر بضد ہیں۔

جواب:۔

جو موضوع آپ نے چھیڑا ہے، اس پر میرے تین رسالے ہیں: ’’قادیانی جنازہ‘‘، ’’قادیانی مردہ‘‘ اور ’’قادیانی ذبیحہ‘‘ یہ تینوں رسائل میری کتاب ’’تحفۂ قادیانیت جلد اوّل‘‘ میں شامل ہیں،(۱)بہتر ہوگا کہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان کے دفتر سے میری یہ کتاب خرید لی جائے اور ان حضرات کو پڑھائی جائے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

’’جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو، ان لوگوں کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے، اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوّت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے، خوب سن لو! کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔(۲) (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

اس لئے جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے سامنے سرخ رو ہونا چاہتے ہیں، ان کو لازم ہے کہ وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے دُشمنوں سے قطع تعلق رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دِین پر صحیح چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور کفر اور باطل سے پناہ عطا فرمائے۔

  1. (۱) جدید ایڈیشن میں مذکورہ رسائل ’’تحفۂ قادیانیت جلد ششم‘‘ میں شامل ہیں۔
  2. (۲) ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٢٢ ﵞ المجادلة ٢٢ ۔