بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

قادیانیوں‌کے‌ساتھ‌اشتراکِ‌تجارت‌اور‌میل‌ملاپ‌حرام‌ہے

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں:

قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور اِرتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے، چونکہ قادیانی مرتد کافر اور دائرۂ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں، تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دُکانوں سے خرید و فروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ و رسم رکھنا از رُوئے اسلام جائز ہے؟

جواب:۔

صورتِ مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زِندیق ہیں،(۱) اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خرید و فروخت کرنا ناجائز و حرام ہے،(۲)کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں، گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں، لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی، غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اختلاط، ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا یہ سب کچھ حرام بلکہ دِینی حمیت کے خلاف ہے۔ فقط واﷲ اعلم!

  1. (۱) وان اعترف بہ (أی الحق) ظاھرًا لٰـكن یفسر بعض ما ثبت من الدِّین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزندیق۔ (المسویٰ شرح المؤطا ج:۲ ص:۱۳)۔
  2. (۲) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ ﵞ المائدة ٥١ وفی ھٰذہ الآیۃ دلَالۃ علٰی ان الکافر لَا یکون ولیًّا للمسلمین لَا فی التصرف ولَا فی النصرۃ، وتدل علٰی وجوب البراءۃ عن الکفار والعداوۃ بھم، لأن الولَایۃ ضد العداوۃ فإذا أمرنا بمعادات الیھود والنصاریٰ لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم والکفر ملّۃ واحدۃ۔ (أحکام القرآن للجصَّاص ج:۲ ص:۴۴۴ طبع سہیل اکیڈمی لَاہور)۔