قادیانیفتنہ
کیاقادیانیوںکوجبراًقومیاسمبلینےغیرمسلمبنایاہے؟
سوال:۔
ﵟ لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ ﵞیعنی دِین میں کوئی جبر نہیں، نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بناسکتے ہیں اور نہ ہی جبراً کسی مسلمان کو آپ غیرمسلم بناسکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعہ غیرمسلم کہلوایا؟
جواب:۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جاسکتا،(۱)یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا اس کو غیرمسلم بھی نہیں کہا جاسکتا، دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیرمسلم نہیں بنایا، غیرمسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں، البتہ مسلمانوں نے غیرمسلم کو ’’غیرمسلم‘‘ کہنے کا ’’جرم‘‘ ضرور کیا ہے۔
میرے محترم! بحث جبر و اِکراہ کی نہیں، بلکہ بحث یہ ہے کہ آپ نے جو عقائد اپنے اِختیار واِرادے سے اپنائے ہیں ان پر اِسلام کا اِطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ان پر اِسلام کا اِطلاق ہوتا ہے تو آپ کی شکایت بجا ہے۔ نہیں ہوتا، تو یقینا بے جا ہے۔ اس اُصول پر تو آپ بھی اِتفاق کریں گے اور آپ کو کرنا چاہئے۔ اب آپ خود ہی فرمائیے کہ آپ کے خیال میں اِسلام کس چیز کا نام ہے؟ اور کن چیزوں کے اِنکار کردینے سے اِسلام جاتا رہتا ہے؟ اس تنقیح کے بعد آپ اصل حقیقت کو سمجھ سکیں گے جو غصّے کی وجہ سے اب نہیں سمجھ رہے۔
- (۱) أی لَا تکرھوا أحدا علی الدخول فی دین الْإسلام فانہ بین واضح جلی دلَائلہ وبراھینہ لَا یحتاج الٰی أن یکرہ أحد علی الدخول فیہ ۔۔۔ فانہ لَا یفیدہ الدخول فی الدین مکرھا مقسورًا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۶۱۶، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

