بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

کیا‌آنحضرت‌صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم‌کی‌کنگن‌پہننے‌والی‌پیش‌گوئی‌غلط‌ثابت‌ہوئی؟

سوال:۔

یہاں قادیانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں، لیکن وہ کنگن حضور (علیہ السلام) نہ پہن سکے، اس کا مطلب ہے کہ ان کی پیش گوئی جھوٹی نکلی (نعوذ باللہ)۔ یہ حدیث کیا ہے؟ کس کتاب کی ہے؟ وضاحت سے لکھیں۔

جواب:۔

دو کنگنوں کی حدیث دُوسری کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری (کتاب المغازی) باب قصہ الاسود العنسی صفحہ:۶۲۸، اور کتاب التعبیر باب النفخ فی المنام ص:۱۰۴۲ میں بھی ہے، حدیث کا متن یہ ہے:

’’میں سو رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں پر دو کنگن سونے کے رکھے گئے، میں ان سے گھبرایا اور ان کو ناگوار سمجھا، مجھے حکم ہوا کہ ان پر پھونک دو، میں نے پھونکا تو دونوں اُڑگئے۔ میں نے اس کی تعبیر ان دو جھوٹوں سے کی جو دعویٔ نبوّت کریں گے، ایک اَسوَد عنسی اور دُوسرا مسیلمہ کذّاب۔‘‘(۱)

اس خواب کی جو تعبیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی وہ سوفیصد سچی نکلی، اس کو ’’جھوٹی پیش گوئی‘‘ کہنا قادیانی کافروں ہی کا کام ہے۔

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: بینا أنا نائم اذ اوتیت خزائن الأرض فوضع فی یدیّ سواران من ذھب فكبرا علیّ واھمّانی فاوحی الیَّ ان انفخھما، فنفختھما، فاوّلتھما الكذّابین اللذین انا بینھما صاحب صنعاء وصاحب الیمامۃ۔ (بخاری ج:۲ ص:۱۰۴۲، طبع نور محمد کراچی)۔