بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

کافر‌گر‌مُلَّا‌کا‌مصداق:‌غلام‌احمد‌قادیانی!غلط‌فہمی‌کے‌شکار‌ایک‌قادیانی‌کی‌خدمت‌میں

سوال:۔

مکرمی مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی، سلامِ مسنون!

گزشتہ جمعہ کے اخبار جنگ میں ایک سوال کے جواب میں آپ کے قلم سے اس حقیقت کا اظہار پڑھ کر انتہائی خوشگوار تعجب ہوا کہ آپ کے نزدیک ابھی تک مسلمان ہونے کے لئے کلمۂ شہادت پڑھنا کافی ہے، گو یہ اظہار یقیناً میرے پیارے آقا و مولیٰ سیّدنا حضرت خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہے، اور آپ کا اس کو دُہرانا معمول کے مطابق ایک بات ہے، لیکن پھر بھی اس میں میرے تعجب کا سبب موجودہ حالات ہیں، جن میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ فرمودۂ رسول، مُلَّا کے رویے کافرگری کا شکار ہوکر اب عملاً متروک ہوچکا ہے، اور کم از کم پاکستان کی حدود میں نافذالعمل نہیں رہا، وطنِ عزیز میں مُلَّا نے اپنی دُکان کو چلائے رکھنے کے لئے حسبِ ضرورت اس سادہ تعلیم میں پیوندکاری کرکے مسلمانوں کو کافر قرار دینا اپنا مشغلہ بنارکھا ہے، جس کی حالیہ مثال مُلَّا اور مجاہدِ ختمِ نبوّت کے روٹی اور کرسی کی بقا کے لئے کئے جانے والے ناپاک گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مسلمان کی وہ تعریف ہے جس نے اللہ اور رسول صلعم کے فرمودات پر مشتمل آپ کی تحریر کردہ اسلامی تعلیم کی جگہ لے لی ہے۔

اس رائج تعریف کی دینی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کے مرتبین اور منظور کرنے والوں کا دین میں خود کیا مقام ہے؟ یا اس کے دنیوی اغراض و مقاصد کیا تھے؟

ان سوالات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ ان کے جواب کسی سیاسی کالم میں مناسب معلوم ہوں گے، کیونکہ یہ سب کچھ ایک سیاسی ڈرامہ ہی تو تھا، میرا سوال تو آپ سے یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے جس طریقۂ کار کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، اگر وہ خدا اور رسول صلعم کا فرمودہ اور اسلامی تعلیم ہے، تو پھر بار بار کلمۂ شہادت پڑھنے اور اس پر اِیمان رکھنے کے باوجود جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں پر دستوری طور پر ’’ناٹ مسلم‘‘ کا ٹھپہ کیوں غیراِسلام نہیں؟ اور کیا کوئی آئین، دستور، قانون اور سازش اس اسلامی تعلیم پر بھی بھاری ہے؟

اُمید ہے جواب سے محروم نہ رکھیں گے۔ والسلام! خاکسار جمیل احمد بٹ، کراچی

جواب:۔

مکرم و محترم، زید لطفہ‘ آداب و دعوات!

نامۂ کرم ملا، جس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کا آپ نے تذکرہ فرمایا، وہ جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے، جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اپنی پیروی کو مدارِ نجات ٹھہرایا، اللہ تعالیٰ ایسے ’’کافر گر مُلَّاؤں‘‘ کے دامِ فریب سے ہر عقلمند کو محفوظ رکھے، آمین!

بلاشبہ جس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کی حرکت واقعی لائقِ احتجاج ہے، اس نے کسی خاص فرد یا گروہ کو نہیں، بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اُمت کو کافر و مشرک اور جہنمی قرار دے کر اپنے ’’ذوقِ کافر گری‘‘ کو تسکین دی ہے، اس کے کیمپ سے یہ آواز لگائی گئی:

الف:۔’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے، مگر محمد کو نہیں مانتا ہے، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیحِ موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

ب:۔’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود کو نہیں مانتے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘(آئینۂ صداقت ص:۳۵)

کیا آپ اس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کے خلاف احتجاج کریں گے؟ جناب کو شاید علم ہوگا کہ اس ’’مُلَّا‘‘ کا نام غلام احمد قادیانی تھا، جو مراق کا مریض ہونے کے علاوہ عام لوگوں پر ہی نہیں، بلکہ خدا و رسول پر بھی پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے کا عادی تھا، خدا تعالیٰ ہر عقلمند کو اس ’’کافر گر مُلَّا‘‘کی فتنہ پردازی سے محفوظ رکھے، فقط والدعا!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ