بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

ایک‌قادیانی‌نوجوان‌کے‌جواب‌میں

سوال:۔

(سوال حذف کردیا گیا ہے)

جواب:۔

آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا، آپ کی فرمائش پر براہِ راست جواب لکھ رہا ہوں اور اس کی نقل ’’جنگ‘‘ کو بھی بھیج رہا ہوں۔

اہلِ اسلام، قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اِجماعِ اُمت کی بنا پر سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں، خود جناب مرزا صاحب کو اعتراف ہے کہ:

’’مسیح ابنِ مریم کی آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بااتفاق قبول کرلیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۵۵۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)

لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزا صاحب کے ماننے والوں کو اہلِ اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہئے، کیونکہ جناب مرزا صاحب نے سورہ الصف کی آیت:۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹)

جناب مرزا صاحب، قرآنِ کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی بنا پر نہیں دیتے، بلکہ وہ اپنے اِلہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں:

’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکساری اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رُوح سے مسیح کی ’’پہلی زندگی‘‘ کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ۔۔۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر۔‘‘ (ایضاً ص:۴۹۹)

اور اسی پر اِکتفا نہیں بلکہ مرزا صاحب اپنے اِلہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی اِلہامی پیش گوئی بھی کرتے ہیں، چنانچہ اسی کتاب کے ص:۵۰۵ پر اپنا ایک اِلہامﵟ عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يَرۡحَمَكُمۡۚ ﵞدرج کرکے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں:

’’یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے ’’جلالی طور پر‘‘ ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق و حق اور نرمی اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدّت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاض کے واقع ہوا ہے، یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اِتمامِ حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اِتمامِ حجت کر رہا ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ آنے پر ایمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآنِ کریم کی قطعی پیش گوئی کی تکذیب ہے، بلکہ جناب مرزا صاحب کی قرآن فہمی، ان کی اِلہامی تفسیر اور ان کی اِلہامی پیش گوئی کی بھی تکذیب ہے۔ پس ضروری ہے کہ اہلِ اسلام کی طرح مرزا صاحب کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر ایمان رکھیں، ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن و حدیث کے علاوہ مرزا صاحب کی قرآن دانی بھی حرفِ غلط ثابت ہوگی اور ان کی اِلہامی تفسیریں اور اِلہامی انکشافات سب غلط ہوجائیں گے، کیونکہ:

’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص:۲۲۲)

اب آپ کو اِختیار ہے کہ ان دو باتوں میں کس کو اختیار کرتے ہیں، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کو؟ یا مرزا صاحب کی تکذیب کو۔۔۔؟

جناب مرزا صاحب کے اِزالہ اوہام صفحہ:۹۲۱ والے چیلنج کا ذکر کرکے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوّے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔

آںعزیز کو شاید علم نہیں کہ حضرات علمائے کرام ایک بار نہیں، متعدّد بار اس کا جواب دے چکے ہیں، تاہم اگر آپ کا یہی خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا، تو یہ فقیر (باوجودیکہ حضراتِ علماء، أحسن اللہ سعیہم کی خاکِ پا بھی نہیں) اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے حاضر ہے، اسی کے ساتھ مرزا صاحب کی کتاب البریۃ ص:۲۰۷ والے اعلان کو بھی ملالیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلادینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

تصفیہ کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کے موجودہ جانشین سے لکھوادیا جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزا صاحب کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں، اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت، جس کے فیصلے پر فریقین اعتماد کرسکیں، خود ہی تجویز فرمادیں، میں اس مُسلّمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کردُوں گا، عدالت اس پر جو جرح کرے گی اس کا جواب دُوں گا، میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کردے کہ میں نے مرزا صاحب کے کلئے کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا ہے تو ۲۰ ہزار روپے آںعزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو چھوڑتا ہوں۔ دُوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرادیجئے گا، اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اعلان کرادیجئے گا کہ مرزا صاحب کا چیلنج بدستور قائم ہے اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیہ کے لئے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت احسان کریں گے۔