قادیانیفتنہ
مرزاقادیانیکادعویٔنبوّت
سوال:۔
ثابت کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، ان کی تحریروں کے حوالے دیں۔
ہمارے محلے کے چند قادیانی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا نے نبوّت کا دعویٰ کیا۔
جواب:۔
مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے دو گروہ ہیں:ایک لاہوری، دُوسرا قادیانی (جن کا مرکز پہلے قادیان تھا، اب ربوہ ہے) ان دونوں کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کے اِلہامات اور تحریروں میں باصرار و تکرار نبوّت کا دعویٰ کیا گیا ہے،(۱) لیکن لاہوری گروہ اس دعوائے نبوّت میں تأویل کرتا ہے۔(۲) جبکہ قادیانی گروہ کسی تأویل کے بغیر مرزا قادیانی کے دعوائے نبوّت پر اِیمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔
آپ سے جن صاحب کی گفتگو ہوئی ہے وہ غالباً لاہوری گروہ کے ممبر ہوں گے، ان کی خدمت میں عرض کیجئے کہ یہ جھگڑا تو وہ اپنے گھر میں نمٹائیں کہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوّت کی کیا توجیہ و تأویل ہے؟ ہمارے لئے اتنی بات بس ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے اور دعویٰ بھی انہی لفظوں میں جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، مثلاً:
ﵟقُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًاﵞ
ﵟ الأعراف ١٥٨ ﵞ(۳)
ﵟ قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ ﵞ
ﵟالكهف ١١٠ﵞ(۴)
وغیرہ، وغیرہ۔
اگر ان الفاظ سے بھی دعویٔ نبوّت ثابت نہیں ہوتا تو یہ فرمایا جائے کہ کسی مدعیٔ نبوّت کو نبوّت کا دعویٰ کرنے کے لئے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔۔۔؟
رہیں دعویٔ نبوّت کی تأویلات! تو دُنیا میں کس چیز کی لوگ تأویلیں نہیں کرتے، بتوں کو خدا بنانے کے لئے لوگوں نے تأویلیں ہی کی تھیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹاماننے والے بھی تأویلیں ہی کرتے ہیں۔ جس طرح کسی اور کھلی ہوئی غلط بات یا غلط عقیدہ کی تأویل لائقِ اعتبار نہیں، اسی طرح حضرت خاتم النبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بھی قطعی غلط ہے اور اس کی کوئی تأویل (خواہ خود مدعی کی طرف سے کی گئی ہو یا اس کے ماننے والوں کی جانب سے) لائقِ اعتبار نہیں۔ دسویں صدی کے مجدّد مُلَّا علی قاریؒ شرح ’’فقہ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’دَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْإِجْمَاعِ‘‘ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
ترجمہ:۔ ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔‘‘
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اگر نبوّت کا دعویٰ کرنے والا ہوش و حواس سے محروم ہو تو اس کو معذور سمجھا جائے گا، ورنہ اس کی گردن اُڑادی جائے گی۔‘‘(۵)
- (۱) حقیقۃ الوحی ص:۱۰۱، اربعین نمبر۳ ص:۳۳، انجامِ آتھم ص:۶۲، ۷۱۔
- (۲) اِزالہ اوہام ص:۸، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص: ۲۱۲۔
- (۳) تذکرہ ص:۳۵۲ طبع چہارم۔
- (۴) حقیقۃ الوحی ص:۸۱۔
- (۵) ثم اعلم انہ اذا تكلم بكلمۃ الکفر عالمًا بمعناھا ۔۔۔ ولَا یعذر بالجھل، ثم اعلم ان المرتدّ ۔۔۔ فان تاب فیھا وإلّا قُتِل۔ (شرح فقہ اكبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی دھلی)۔

