قادیانیفتنہ
کلمۂطیبہمیںاضافہکرناجائزنہیں
سوال:۔
کچھ دنوں سے کلمۂ طیبہ کو مختلف مقامات پر یوں کہتے ہوئے سنا ہے: ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘ چونکہ کلمہ تو دِین کی بنیاد ہے، اس لئے اس میں زیر، زبر کا اضافہ یا اس کی کمی بھی موجبِ تشویش ہے، اس لئے دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس طرح کلمہ ادا کرنا کیسا ہے؟ اور اگر اس طرح اس کی اشاعت ہو تو کیا حرج ہے؟
جواب:۔
کلمۂ طیبہ میں ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ‘‘ سے زائد کسی بھی لفظ و جملے کا بطور کلمۂ طیبہ کے اضافہ کرنا جائز نہیں ہے،(۱) اس صورت میں ’’صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘ نہ بڑھائیں، نہ ہی پڑھیں، البتہ ذکر وغیرہ میں جہاں اضافے کا اندیشہ نہ ہو، جائز ہے۔
- (۱) وأخرج الدیلمی فی مسند الفردوس عن ابن عمر مرفوعًا ألظوا ألسنتکم قول لَا إلٰہ إلّا اللہ محمد رسول اللہ۔ (مرقاۃ ج:۱ ص:۶۷)۔ عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رَدّ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷) وأیضًا قال القاضی عیاض رحمہ اللہ: المعنٰی من أحدث فی الْإسلام رأیا لم یكن لہ من الکتاب والسُّنَّۃ سند ظاھر أو خفی ملفوظ أو مستنبط فھو مردود۔ (المرقاۃ ج:۱ ص:۱۷۷ طبع بمبئی، الطریقۃ المحمدیۃ ج:۱ ص:۷۲)۔

