بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

مرزائی‌کافر‌کیوں‌ہیں؟‌جبکہ‌وہ‌کلمہ‌پڑھتے‌ہیں

سوال:۔

آپ کے ایک رسالے میں دیکھا کہ قادیانی ہمارا کلمہ پڑھتے ہیں اور بسم اللہ وغیرہ لکھتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ جب قادیانی ہمارا پورا پورا اور بالکل صحیح کلمہ پڑھتے ہیں تو ہمارا اختلاف کس بات کا ہے؟ اس بارے میں مجھے ایک حدیث مبارکہ بھی یاد آرہی ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’میری اس سے اس وقت تک لڑائی (جنگ) ہے جب تک کہ وہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ نہیں پڑھ لیتا۔ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہم کس طرح کلمہ گو کو کافر کہہ سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یوں تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کا مسلک احمدی ہے اور ہمارا مسلک کوئی اور ہے، برائے کرام تفصیل سے سمجھائیں۔

جواب:۔

جناب نے پورے رسالے میں پیڈ پر لکھا ہوا کلمہ ہی دیکھا، یا کچھ اور بھی؟ اس پورے رسالے میں مرزا دجال کا جھوٹا ہونا ثابت کیا گیا ہے، اور ایسا ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کے پاس اس کا جواب نہیں، اور یہ قادیانی ایسے کذّاب کو نبی مانتے ہیں، کیا کسی حدیث میں آپ نے یہ پڑھا ہے کہ مسیلمہ کذّاب کو نبی ماننے والے اگر کلمہ پڑھیں تو ان کو بھی کافر نہ کہو؟ مسیلمہ کذّاب اور اس کے ماننے والے یہی کلمہ پڑھتے تھے،(۱) مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے رُفقاء نے ان کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کیا،(۲) یہی حال قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے کا ہے۔

جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ان لوگوں کے متعلق ہے جن کا کلمہ گو ہونا تو معلوم ہو، دُوسرا کوئی عقیدہ ہمیں معلوم نہ ہو۔ جن لوگوں کا کفر و اِرتداد معلوم ہو، ان کا حکم قرآنِ کریم نے بیان فرمایا ہے: ’’بہانے نہ بناؤ، تم دعوائے ایمان کے بعد کافر ہوچکے ہو(۳)۔‘‘

اور یہ بھی آپ نے خوب کہی کہ: ’’میرے خیال میں یوں تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کا مسلک احمدی ہے اور ہمارا مسلک دیوبند ہے‘‘ گویا ایک جھوٹے مدعی نبوّت کو ماننے کے باوجود آپ کے خیال میں صرف مسلک ہی کا فرق ہوتا ہے، مذہب اور دِین نہیں بدلتا۔

میرے محترم! مسلک کا فرق ایک دِین اور مذہب کے اندر رہ کر ہوتا ہے، جبکہ جھوٹے مدعیٔ نبوّت کے مان لینے کے بعد آدمی دِین ہی سے خارج ہوجاتا ہے۔(۴) جب دِین ہی نہ رہا بلکہ ایک شخص اسلام کے دائرے سے نکل کر کفر میں داخل ہوگیا تو صرف مسلک کا فرق کہاں رہا؟

قادیانیوں کا۔۔۔پکے اور کھلے کافر ہونے کے باوجود ۔ ۔ ۔ ہمارا کلمہ پڑھنا ان کو مسلمان نہیں بناتا ہے، بلکہ ان کے کفر و اِرتداد میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس موضوع پر میرے دو رسالے ملاحظہ فرمالیں: ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ اور ’’قادیانیوں میں اور دُوسرے غیرمسلموں میں کیا فرق ہے؟‘‘ واللہ اعلم۔

یہاں جناب کی توجہ ایک اور نکتے کی طرف بھی دِلانا چاہتا ہوں، اور وہ یہ کہ قادیانی بھی اُمتِ مسلمہ کو کافر کہتے ہیں، کیونکہ اہلِ اسلام قادیانیوں کے خودساختہ نبی کے منکر ہیں۔ جیسا کہ قادیانی اکابر کے درج ذیل حوالوں سے واضح ہے:

۱:۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں۔‘‘(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۴، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)

۲:۔ نیز مرزا کا بزعمِ خود اِلہام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کو مخاطب کرکے ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ فرمایا ہے کہ اے مرزا:

’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا و رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵)

۳:۔ نیز مرزا لکھتا ہے:

’’ان اِلہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہوا ہے، جو شخص کہتا ہے کہ اس پر ایمان لاؤ، اور اس کا دُشمن جہنمی ہے۔‘‘ (انجامِ آتھم ص:۶۲، خزائن ج:۱۱ ص:۶۲)

۴:۔ مرزا محمود قادیانی اپنی کتاب ’’آئینۂ صداقت‘‘ میں لکھتا ہے:

’’کل مسلمان جو مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینۂ صداقت ص:۳۵)

۵:۔ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں لکھتا ہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (ص:۱۱۰)

الغرض قادیانی، دُنیا بھر کے مسلمانوں کو محض اس جرم کی وجہ سے کافر اور جہنمی کہتے ہیں کہ وہ مرزا کذّاب کو نہیں مانتے۔ کیا آپ نے کبھی ان سے بھی یہ سوال کیا کہ: جب دُنیا بھر کے مسلمان حضرت محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی ایک ایک بات پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ قادیانی ان تمام کلمہ گو مسلمانوں کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ دورِ حاضر کے مسیلمہ کذّاب مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو اگر کافر کہا جائے تو یہ آپ کے خیال میں صحیح نہیں، اور اگر قادیانی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اُمت کو کافر کہیں تو آپ ان کے خلاف کوئی اِحتجاج نہیں کرتے۔۔۔؟

  1. (۱) جواہر الفقہ ج:۲ ص:۱۷۱، طبع دارالعلوم کراچی، البدایۃ والنہایۃ ج:۶ ص:۳۴۱، طبع دار الفکر، بیروت۔
  2. (۲) ثم سار خالد إلی الیمامۃ لقتال مسیلمۃ الكذاب فی أواخر العام والتقی الجمعان ودام الحصار أیامًا ثم قتل الكذاب لعنہ اللہ قتلہ وحشی قاتل حزمۃ واستشھد فیھا خلق من الصحابۃ۔ (تاریخ الخلفاء ص:۵۸ طبع قدیمی)۔
  3. (۳) ﵟ لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ ﵞ التوبة ٦٦۔
  4. (۴) من ادعی نبوّۃ أحد مع نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ ۔۔۔ أو من ادعٰی النبوّۃ لنفسہ أو جوّز اکتسابھا ۔۔۔ وكذا من ادعٰی منھم أنہ یوحٰی الیہ وان لم یدع النبوۃ فھؤلَاء كلھم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ (الشفاء لقاضی عیاض ج:۲ ص:۲۴۶، ۲۴۷)۔ وأیضًا قال الموفق فی المغنی: ومن ادعی النبوۃ أو صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا بذٰلك مرتدین۔ (اعلاء السنن ج:۱۲ ص:۶۳۶ طبع ادارۃ القرآن)۔