بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

لفظِ‌’’خاتم‘‘‌کی‌تشریح

سوال:۔

لفظِ ’’خاتم‘‘ کے معنی کیا ہیں؟ لفظِ ’’خاتم‘‘ سے مراد قادیانی یہ لیتے ہیں کہ اس سے مراد نفیٔ کمالات ہیں، نفی جنس کے نہیں۔ بالفاظِ دیگر ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی اس معنی میں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوّت کے کمالات ختم ہوچکے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی نبی آئے گا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے آئے گا۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانیوں کی یہ تشریح کس حد تک دُرست ہے؟ کیا کوئی لفظ عربی لغت میں ایسا ہے جو ایک وقت دونوں (نفیٔ جنس و نفیٔ کمالات) کے لئے بولا جاتا ہو؟ اگر ہے تو وہ کونسا ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو اس لفظ (خاتم) کی صحیح تشریح بیان فرمادیں، تاکہ عام مسلمان بھی اچھی طرح سمجھ لیں اور قادیانیوں کے جال میں نہ پھنس سکیں۔

جواب:۔

’’خاتَم‘‘ (بفتح تا) کے معنی مہر کے ہیں، جو کسی چیز کو بند کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔ اور ’’خاتِم‘‘ (بکسر تا) کے معنی ہیں ختم کرنے والا۔(۱) دونوں کا ایک ہی خلاصہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تشریف لائے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قادیانیوں کا یہ موقف تحریفِ قرآن ہے، جو مرادِ اِلٰہی کے خلاف، مرادِ نبوی کے خلاف، اور مرزا قادیانی کی تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردُود ہے۔(۲)

  1. (۱) فقرأ ذٰلك قرأ الأمصار سوی الحسن وعاصم بكسر التاء من خاتم النبیّٖن بمعنی أنہ ختم النبیّین (الٰی قولہ) وقرأ ذٰلك فیما یذکر الحسن والعاصم وخاتم النبیّٖن بفتح التاء بمعنی أنہ اٰخر النبیّین۔ (تفسیر ابن جریر ج:۱۲ ص: ۱۶)۔
  2. (۲) خود مرزا غلام ا حمد قادیانی نے خاتم النبیین کا معنی کیا ہے: ’’اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا‘‘ (ازالہ اوہام خ ج:۳ ص:۴۳۱)۔ اور دُوسری جگہ مرزا لکھتا ہے: ’’قال اللہ عز وجل ما کان محمد ابا أحد من رجالكم ولٰـكن رسول اللہ وخاتم النبیّین، الَا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّٰی نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الأنبیاء بغیر إستثناء، وفسّرہ نبیّنا فی قولہ لَا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین۔ (حمامۃ البشریٰ خ ج:۷ ص:۲۰۰)۔