قادیانیفتنہ
کلمۂشہادتاورقادیانی
سوال:۔
اخبار جنگ ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ کے عنوان کے تحت آنجناب نے ایک سائل کے جواب میں کہ کسی غیرمسلم کو مسلم بنانے کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا ہے کہ:
.4’’غیرمسلم کو کلمۂ شہادت پڑھا دیجئے، مسلمان ہوجائے گا۔‘‘
اگر مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمۂ شہادت پڑھ لینا کافی ہے تو پھر قادیانیوں کو باوجود کلمۂ شہادت پڑھنے کے غیرمسلم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ اَز راہِ کرم اپنے جواب پر نظرِ ثانی فرمائیں، آپ نے تو اس جواب سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ قادیانی اس جواب کو اپنی مسلمانی کے لئے بطورِ سند پیش کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کریں گے، اور آپ کو بھی خدا کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔
جواب:۔
مسلمان ہونے کے لئے کلمۂ شہادت کے ساتھ خلافِ اسلام مذاہب سے بیزار ہونا اور ان کو چھوڑنے کا عزم کرنا بھی شرط ہے، یہ شرط میں نے اس لئے نہیں لکھی تھی کہ جو شخص اسلام لانے کے لئے آئے گا ظاہر ہے کہ وہ اپنے سابقہ عقائد کو چھوڑنے کا عزم لے کر ہی آئے گا۔ باقی قادیانی حضرات اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے، کیونکہ ان کے نزدیک کلمۂ شہادت پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا، بلکہ مرزا صاحب کی پیروی کرنے اور ان کی بیعت کرنے میں شامل ہونے سے مسلمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے انہیں یہ اِلہام کیا ہے کہ:
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘ (تذکرہ طبع جدید ص:۳۳۶)
نیز مرزا قادیانی اپنا یہ اِلہام بھی سناتا ہے کہ:
’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (مرزا کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم)
مرزا صاحب کے بڑے صاحب زادے مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینۂ صداقت ص:۳۵)
مرزا صاحب کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)
قادیانیوں سے کہئے کہ ذرا اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بات کیا کریں۔۔۔!

