موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
معاشکےلئےکفراِختیارکرنا
سوال:۔
میرے ایک محترم دوست نے چند دن پہلے معاشی حل کے لئے قادیانیت کو قبول کیا، ان سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا جو فارم میں نے پڑھا ہے، اس کی شرائط میں کہیں بھی کفریہ کلام نہیں، مثلاً: زِنا، نہ کرنا۔ بدنظری، نہ کرنا۔ رِشوت، نہ لینا۔ جھوٹ، نہ بولنا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی علیہ السلام ماننا۔ اور اس نے صرف ضرورت پوری ہونے تک قادیانیت قبول کی ہے اور بعد میں وہ لوٹ آئے گا۔ کیا اس کے اس فعل کے بعد اسلام رہا؟ اگر نہیں تو بیوی بچوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ اگر گھر والوں کو چھوڑنے پر بھی تیار نہ ہو اور اس کی چند جوان اولاد بھی ہیں اور جو مال وہ دے تو اسے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعیٔ نبوّت ہے، لہٰذا اس کے اور اس کے ماننے والوں کے کافر، مرتد اور زِندیق ہونے میں کسی قسم کا شبہ اور تردّد نہیں،(۱) اللہ تعالیٰ کی عدالت بھی ان کو کافر و مرتد قرار دے چکی ہے، اور عالمِ اسلام کی اعلیٰ عدالتیں بھی، اس شخص کو اگر اس مسئلے میں کوئی شبہ ہے تو وہ اہلِ علم سے تبادلۂ خیال کرے۔
قادیانیت کا فارم پُر کرنا، اپنے کفر و اِرتداد پر دستخط کرنا ہے،(۲) جہاں تک معاشی مسئلے کا تعلق ہے، معاش کی خاطر اِیمان کو فروخت نہیں کیا جاسکتا، اور ان صاحب کا یہ کہنا کہ وہ بعد میں لوٹ آئے گا، قابلِ اعتبار نہیں۔ جب ایک چیز صریح کفر ہے تو اس کو اِختیار کرنا ہی نارَوا ہے، اور اس کو اِختیار کرتے ہی آدمی دین سے خارج ہوجاتا ہے، تو اس کے واپس لوٹنے کی کیا ضمانت؟
اس شخص کو قادیانیت کی حقیقت اور ان کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا جائے، اگر اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ ان سے توبہ کرلے تو ٹھیک! ورنہ اس کے بیوی بچوں کا فرض ہے کہ اس شخص سے قطع تعلق کرلیں اور یہ سمجھ لیں کہ وہ مرگیا ہے۔
چونکہ یہ شخص قادیانی فارم پُر کرچکا ہے، اس لئے اگر یہ تائب ہوجائے تو اس کو اپنے ایمان کی بھی تجدید کرنی ہوگی، اور نکاح بھی دوبارہ پڑھوانا ہوگا،(۳) (جس کی تفصیل میرے رسائل ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ اور ’’خدائی فیصلہ‘‘ وغیرہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)۔
- (۱) ودعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالْإجماع ۔۔۔ (شرح فقہ أكبر ص:۲۰۲، طبع دھلی)۔ لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱، طبع پشاور)۔
- (۲) ان من عزم علی الکفر ولو بعد مائۃ سنۃ یکفر فی الحال ۔۔۔ امن من ضحك مع الرضا عمن تکلم بالکفر کفر۔ (شرح فقہ أكبر ص:۳۰۳)۔
- (۳) ’’وفی شرح الوھبانیۃ: ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح وأولَادہ أولَاد الزنا، وما فیہ خلاف: یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔‘‘ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔

