بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

دِل‌میں‌خیال‌آنا‌کہ:‌’’اگر‌ہندو‌ہوتے‌تو‌یہ‌مسئلہ‌نہ‌ہوتا‘‘‌کا‌حکم

سوال:۔

ایک مسئلے نے مجھے بہت دن سے پریشان کر رکھا ہے۔ میں چار مہینے پہلے اِنڈیا گیا تھا، جہاں مغرب کی نماز پڑھتے پڑھتے تشہد میں خیال آیا: ’’اگر ہندو ہوتا تو آج یہ مسئلہ نہیں ہوتا‘‘۔ اس خیال کی وضاحت پوری طرح کردُوں کہ اِنڈیا میں ہمارے بھائیوں وغیرہ کے درمیان جائیداد کا مسئلہ تھا، روز روز اس بات پر جھگڑا ہوتا تھا۔ اس لئے نماز پڑھتے پڑھتے یہ خیال آیا کہ اگر ہندو ہوتے تو آج یہ مسئلہ نہ ہوتا اور یہاں کی حکومت مدد کرتی۔ برائے مہربانی بتائیں کہ اس خیال کے آنے سے میرے مسلمان ہونے پر کوئی آنچ تو نہ آئی؟ اگر آئی تو اس کی صورت کیا کروں؟ کیونکہ میں تو اس صورت کا تصوّر کرکے ہی کانپ اُٹھتا ہوں۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت دُعا کی ہے کہ وہ مجھے معاف فرمائے، آمین۔

جواب:۔

خیال اور وسوسہ آنے سے کچھ نہیں ہوتا، جبکہ آدمی اس کو بُرا سمجھتا ہو۔ چونکہ آپ اس وسوسہ کو بُرا سمجھتے ہیں، اس لئے اسلام میں فرق نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔(۱)

  1. (۱) ان العبد لَا یؤاخذ ما لم یعمل وان ھم بمعصیۃ۔ (حاشیہ مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۸)۔ أیضًا عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تجاوز عن اُمّتی ما وسوست بہ صدرھا ما لم تعمل بہ أو تتکلم۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۸، باب الوسوسۃ، الفصل الأوّل)۔