بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

’’جنت،‌دوزخ‌کی‌باتیں‌غلط‌نکلیں‌تو‘‘‌دِل‌میں‌خیال‌پیدا‌ہونے‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

جب سے میں نے نماز پڑھنا، زکوٰۃ وغیرہ دینا شروع کیا ہے (وہ بھی دُوسرے لوگوں کو مرتے دیکھ کر، زیادہ تر جہنم کے ڈَر سے اور تھوڑا سا جنت کی لالچ میں)، اس کے بعد اکثر دِل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ جنت دوزخ کی باتیں (نعوذ باللہ) جھوٹ نکلیں تو۔۔۔! مگر پھر توبہ کرکے ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس بات پر نہایت سختی سے جم جاتا ہوں کہ: ’’لیکن! اگر قیامت، دوزخ جنت سب سچ نکلا تو۔۔۔! اربوں کھربوں بلکہ لامحدود وقت کون دوزخ میں گزارے گا؟ اور اتنا بڑا رِسک کیوں لیا جائے؟‘‘ کیا ان خیالات سے ایمان جاتا رہتا ہے، جبکہ فوراً توبہ کرلی جائے؟

جواب:۔

اس قسم کے خیالات اور وسوسے جو غیراِختیاری طور پر دِل میں آئیں وہ دِین و ایمان کے لئے مضر نہیں، جبکہ آدمی ان کو ناپسند کرتا ہو،(۱) ایسا وسوسہ دِل میں آئے تو فوراً اِستغفار کرنا چاہئے اور توجہ ہٹانے کے لئے کسی دُوسرے کام میں لگ جانا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سب برحق ہیں، جنت برحق ہے، دوزخ برحق ہے، نیکی اور بدی کا حساب و کتاب برحق ہے، اور جزا و سزا برحق ہے، عذابِ قبر برحق ہے، الغرض عالَمِ غیب کے وہ حقائق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں، برحق ہیں۔ ان پر عقیدہ رکھنا شرطِ اِیمانی ہے،(۲) اس لئے ان غیراِختیاری خیالات و وساوس کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف اِلتفات ہی نہ کیا جائے، نہ ان سے پریشان ہوا جائے۔(۳)

  1. (۱) ومن خطر ببالہ أشیاء توجب الکفر إن تکلم بھا وھو کارہ لذٰلك لَا یضرہ وھو محض الْإیمان۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ ج:۵ ص:۳۱۳، کتاب أحکام المرتدین)۔
  2. (۲) وعذاب القبر للکافرین ولبعض عصاۃ المؤمنین وتنعیم أھل الطاعۃ فی القبر ثابت بالدلَائل السمعیۃ، والبعث حق، والکتاب حق، والسؤال حق، والحوض حق، والصِّراط حق، والجنّۃ حق، والنار حق، وھما مخلوقتان، موجودتان، باقیتان، لَا یفنیان ۔۔۔ الخ۔ (شرح العقائد، ملخصًا ص:۹۸ تا ۱۰۶)۔
  3. (۳) ومن خطر ببالہ أشیاء توجب الکفر إن تکلم بھا وھو کارہ لذالك لَا یضرہ وھو محض الْإیمان۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ ج:۵ ص:۳۱۳، کتاب أحکام المرتدین)۔