بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

کیا‌گستاخانہ،‌کفریہ،‌گالیوں‌والے‌خیالات‌دِل‌میں‌آنے‌پر‌کوئی‌مؤاخذہ‌ہے؟

سوال:۔

میں یہ جو گندے، گستاخانہ، کفریہ اور گالیوں والے خیالات دِل میں لاتا ہوں، یا خیالات آتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ مشرکانہ، گستاخانہ، کفریہ، گالیوں والے خیالات پر میں توبہ بھی کرتا ہوں تو میری توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ اور میری توبہ کرنے سے یہ شرک دِل میں اور ذہن میں لانے سے اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے یا نہیں؟ یعنی شرک والا خیال آنے کے بعد توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ شرک والا گناہ معاف کردیں گے یا نہیں؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ: ہمیں بعض دفعہ ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کو زبان پر لانے کی نسبت جل کر کوئلہ ہوجانا بہتر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’یہ تو صریح ایمان ہے!‘‘ لہٰذا آپ کی غیراِختیاری حالت پر کفر و شرک لازم ہی نہیں آتا کہ توبہ کے قبول نہ ہونے کا سوال پیدا ہو۔ ان وساوس کی کوئی پروا نہ کریں، جب کوئی بُرا خیال آئے تو کلمہ شریف یا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِپڑھ لیا کریں۔(۱)

  1. (۱) ’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم جاءہ رجل فقال: انی احدث نفسی بالشیء لأن أکون حُمَمَۃ احب الیّ من أتکلم بہ ۔۔۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۱۹ وفی روایۃ: أوقد وجدتموہ؟ قالوا: نعم! قال: ذاك صریح الْإیمان! مشکوٰۃ ص:۱۸)۔