بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

اللہ،‌رسول‌اور‌اہلِ‌بیت‌کے‌بارے‌میں‌دِل‌میں‌بُرے‌خیالات‌آنا

سوال:۔

میں مسلمان پیدا ہوا اور اللہ کے فضل سے مسلمان ہوں، لیکن چند سالوں سے میرے ذہن اور دِل میں اللہ اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ بیت اور اسلام کی مقدس ہستیوں اور اسلام کی مقدس چیزوں کے بارے میں مشرکانہ، کفریہ اور گستاخانہ اور گالیوں جیسے خیالات آتے ہیں۔ تھوڑا سا بھی ذہن اللہ و رسول کے بارے میں جاتا ہے تو مندرجہ بالا گندے خیالات آتے ہیں، پھر میں دِل میں اور زبان سے توبہ بھی کرتا ہوں، لیکن خیالات اس کے باوجود بھی آتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ میں اب مسلمان رہا یا نہیں؟ یا کافر ہوگیا؟

جواب:۔

غیراِختیاری اُمور پر مؤاخذہ نہیں، چونکہ آپ ان گندے خیالات کو بُرا سمجھتے ہیں اور ان خیالات سے پریشان ہیں، اس لئے آپ پکے مسلمان ہیں۔(۱)

  1. (۱) وعنہ (أی: أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: جاء ناس من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فسألوہ: انا نجد فی أنفسنا ما یتعاظم أحدنا أن یتکلّم بہٖ، قال: أو قد وجدتموہ؟ قالوا: نعم! قال: ذاك صریح الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ص:۱۸)۔ وایضًا ومن خطر ببالہ اشیاء توجب الکفر ان تکلم بھا وھو کارہ لذٰلك لَا یضرہ وھو محض الْإیمان۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۱۳، کتاب أحکام المرتدین، طبع قدیمی)۔