موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
زکوٰۃسےبچنےکےلئےاپنےآپکوشیعہلکھوانےوالوںسےکیاتعلقرکھیں؟
سوال:۔
عرض ہے کہ میرے بڑے سالے نے فکس ڈیپوزٹ میں کچھ رقم جمع کرائی، اس رقم پر نفع حاصل کرنے کے لئے، اور انہوں نے اس رقم کی جو نفع تھی، زکوٰۃ کٹوانے کے لئے اپنے آپ کو ’’شیعہ‘‘ بنایا اور حلف نامہ جمع کرایا ہے، جس کی وجہ سے اب ان کی زکوٰۃ نہیں کٹتی۔ انہوں نے اپنے والد اور والدہ کو بھی اس چیز پر مجبور کرکے حلف نامہ جمع کرایا کہ: ’’ہم شیعہ حضرات ہیں، ہم زکوٰۃ نہیں کٹوائیں گے‘‘ لہٰذا یہ تمام حضرات اگر حکومت کے سامنے حلف نامے کی رُو سے شیعہ ہوگئے ہیں، تو میری بیوی، جو کہ ان کی بیٹی ہے اور وہ اس چیز سے الگ ہے، اور میرے کہنے پر عمل کرتی ہے، آپ بتائیں کہ میں ان کے گھر والوں سے اپنا ملنا جلنا کیسا رکھوں؟
جواب:۔
فکس ڈیپازٹ میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے، اس کا منافع سود ہے، اس کے لینے اور استعمال کرنے سے توبہ کرنی چاہئے۔
اور زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو ’’شیعہ‘‘ لکھوانا سخت گناہ ہے، جس سے کفر کا اندیشہ ہے، ان کو اس سے توبہ کرنا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔(۱)
آپ ان لوگوں کو محبت پیار سے سمجھائیں، کہ معمولی فائدے کے لئے اس گناہ کے ارتکاب سے کفر کا خطرہ ہے، اگر وہ نہ مانیں تو ان سے تعلقات نہ رکھیں،(۲) واللہ اعلم!
- (۱) والرضاء بالکفر کفر۔ (فتاویٰ قاضی خان بر ہندیۃ ج:۳ ص:۵۷۳، کتاب السیر، باب ما یکون کفرًا)۔
- (۲) ﵟ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨ ﵞ الأنعام ٦٨۔

