بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

شہریت‌کے‌حصول‌کے‌لئے‌اپنے‌کو‌’’کافر‘‘‌لکھوانا

سوال:۔

یورپ کے کچھ ممالک کی حکومتوں کی یہ پالیسی ہے کہ وہ دُوسرے ملکوں کے ان لوگوں کو سیاسی پناہ دیتے ہیں جو اپنے ملک میں کسی زیادتی یا امتیازی سلوک کے شکار ہوں۔ ہمارے کچھ پاکستانی بھی حصولِ روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور مستقل قیام یا شہریت حاصل کرنے کے لئے وہاں کی حکومت کو تحریری درخواست دیتے ہیں کہ وہ قادیانی ہیں، اور پاکستان میں قادیانیوں سے زیادتی کی جاتی ہے، اس لئے ان کو وہاں پر سیاسی پناہ دی جائے۔ اس طرح وہاں پر قیام کرنے کی اجازت حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد ان کو وہاں کی شہریت بھی مل جاتی ہے۔ ان لوگوں کو اگر سمجھایا جائے کہ اس طرح قادیانی بن کر روزگار حاصل کرنا شرعی طور پر گناہ ہے اور اس طرح وہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں، مگر ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ صرف روزگار حاصل کرنے کے لئے قادیانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ورنہ وہ اب بھی دِل و جان سے اسلام پر قائم ہیں۔ وہاں کی شہریت حاصل کرکے وہ پاکستان آکر یہاں مسلمان گھرانوں میں شادی بھی کرلیتے ہیں، اور لڑکی والوں سے یہ بات چھپائی جاتی ہے کہ لڑکے نے قادیانی بن کر غیرملکی شہریت حاصل کی ہے، اور لڑکی والے بھی اس لالچ میں کہ ان کی لڑکی کو بھی یورپ کی شہریت مل جائے گی، کوئی تحقیق نہیں کرتے۔ حالانکہ لڑکے کے قریبی عزیز و اقارب کو یہ بات معلوم ہوتی ہے، اس طرح جھوٹ موٹ اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنے سے چاہے وہ صرف وہاں رہائش حاصل کرنے کے لئے بولا گیا ہو، کیا وہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں؟

سوال:۔

وہ جو کسی مسلمان لڑکی سے شادی کرتے ہیں، کیا ان کا نکاح جائز ہے؟ اگر ان کا نکاح جائز نہیں تو اب ان کو کیا کرنا چاہئے؟

سوال:۔

کیا لڑکی کے والدین اور لڑکی جس کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں، وہ بھی گناہ میں شامل ہیں؟

سوال:۔

لڑکے کے وہ عزیز و اقارب جو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی لڑکی والوں سے بات چھپاتے ہیں اور نکاح میں شریک ہوتے ہیں، کیا وہ بھی گناہگار ہوں گے؟

سوال:۔

کیا وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں، اگر ہاں تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور کیا کوئی کفارہ بھی دینا ہوگا؟

سوال:۔

جو شادی شدہ آدمی وہاں جاکر یہ حرکت کرتے ہیں، کیا ان کا نکاح قائم ہے؟ اگر نہیں تو ان کو کیا کرنا چاہئے؟ تاکہ ان کا نکاح بھی قائم رہے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکیں۔

جواب:۔

جو شخص جھوٹ موٹ کہہ دے کہ: ’’میں ہندو ہوں یا عیسائی ہوں یا قادیانی ہوں‘‘ وہ اس کہنے کے ساتھ ہی اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس کا حکم مرتد کا حکم ہے۔(۱)

جواب:۔

ایسے شخص سے کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوتا، اگر دھوکے سے نکاح کردیا گیا تو پتا چلنے کے بعد اس نکاح کو کالعدم سمجھا جائے اور لڑکی کا عقد دُوسری جگہ کردیا جائے، چونکہ نکاح ہی نہیں ہوا اس لئے طلاق لینے کی ضرورت نہیں۔(۲)

جواب:۔

جی ہاں! اگر معلوم ہونے کے بعد انہوں نے کوئی کارروائی نہ کی تو وہ بھی گناہگار ہوں گے، مثلاً: کسی مسلمان لڑکی کا نکاح کسی سکھ سے کردیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ کام کرنے والے عنداللہ مجرم ہوں گے۔(۳)

جواب:۔

جن عزیز و اقارب نے صورتِ حال کو چھپایا وہ خدا کے مجرم ہیں، اور اس بدکاری کا وبال ان کی گردن پر ہوگا۔(۴)

جواب:۔

دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اعلان کردیں کہ وہ قادیانی نہیں اور وہاں کی حکومت کو بھی اس کی اطلاع کردیں۔(۵)

جواب:۔

چونکہ ایسا کرنے سے وہ مرتد ہوجاتے ہیں، اس لئے ان کا پہلا نکاح فسخ ہوگیا، تجدیدِ اسلام کے بعد نکاح کی بھی تجدید کریں۔(۶)

  1. (۱) رجل کفر بلسانہ طائعًا وقلبہ مطمئن بالْإیمان یکون کافرًا ولَا یکون عند اللہ مؤمنًا، كذا فی فتاوٰی قاضی خان۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳)، اما ركنھا فھو إجراء كلمۃ الکفر علی اللسان بعد وجود الْإیمان، اذا الردۃ عبارۃ عن الرجوع من الْإیمان، فالرجوع عن الْإیمان یسمّٰی ردّۃ فی عرف الشرع۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۴)۔
  2. (۲) ولَا یجوز أن یتزوّج المرتد مسلمۃً ولَا کافرۃً، أمّا المسلمۃ فظاھر، لأنھا لَا تکون تحت کافرٍ۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۵۰۵ طبع دار صادر، بیروت)۔
  3. (۳) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من کثر سواد قوم فھو منھم، ومن رضی عمل قوم کان شریكًا لمن عملہ۔ (المطالب العالیۃ ج:۲ ص:۴۲، طبع مکتبۃ الباز، مکۃ المکرمۃ)۔
  4. (۴) ﵟ وَلَا تَكۡتُمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَۚ ﵞ أی: لَا تخفوھا وتغلّوھا ولَا تظھروھا، قال ابن عباس وغیرہ: شھادۃ الزور من أكبر الكبائر وکتمانھا كذٰلك وھٰذا قال ومن یکتمھا فانہ آثم قلبہ۔ (ابن کثیر ج:۳ ص:۶۶۵، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  5. (۵) وتوبتہٗ أن یأتی بالشھادتین ویبرأ عن الدِّین الذی انتقل الیہ۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
  6. (۶) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ یؤمر بالتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار، باب المرتد ج:۴ ص:۲۴۶)۔