بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

مذہبی‌شعار‌میں‌غیرقوم‌کی‌مشابہت‌کفر‌ہے

سوال:۔

ایک حدیث سنی ہے جس کا مفہوم میری سمجھ میں اس طرح آیا کہ: ’’جو شخص کسی کی مشابہت اختیار کرتا ہے، وہ کل قیامت کے دن اس کے ساتھ اُٹھایا جائے گا‘‘ ہم لوگ سر کے بالوں سے لے کر پیر کے ناخنوں تک غیروں کی مشابہت کرتے ہیں۔ داڑھی پر اُسترا چلاتے ہیں، قمیص اور پتلون انگریزی اپناتے ہیں، قمیص میں کالر لگواتے ہیں جو کہ صلیب کی علامت ہے۔ غرض ہر طرح انگریز کا طریقہ اپناتے ہیں، کوئی زیادہ دِین دار ہوا تو قمیص کے کالر تبدیل کرلیتا ہے، لیکن قمیص کی شکل بہرحال انگریزی ہی رہتی ہے۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ ہمارا طریقہ کیا انگریزی طریقہ نہیں؟ اور کیا یہ حدیث ہم پر صادق نہیں آتی؟

جواب:۔

یہ حدیث صحیح ہے، اور کسی قوم سے تشبیہ کا مسئلہ خاصا تفصیل طلب ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی غیرقوم کے مذہبی شعار میں ان کی مشابہت کرنا تو کفر ہے،(۱) جیسے ہندوؤں کی طرح چوٹی رکھنا، یا زنار پہننا، یا عیسائیوں کی طرح صلیب پہننا، اور جو چیز کسی قوم کا مذہبی شعار تو نہیں، لیکن کسی خاص قوم کی وضع قطع ہے، ان میں مشابہت کفر نہیں، البتہ گناہِ کبیرہ ہے، جیسا کہ داڑھی منڈانا مجوسیوں کا شیوہ تھا، اور جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں، ان میں مشابہت نہیں، البتہ اگر کوئی شخص مشابہت کے ارادے سے ان چیزوں کو اِختیار کرے گا، وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے۔

  1. (۱) فإنّا ممنوعون من التشبیہ بالکفر وأھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم ۔۔۔ فالمدار علٰی الشّعار۔ ومن تزنر بزنار الیھود أو النصاریٰ ۔۔۔ کفر۔ (ایضًا)۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۲۸، طبع مجتبائی دھلی)۔