بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

ایک‌اسلامی‌ملک‌میں‌ایسی‌جسارت‌کرنے‌والوں‌کا‌شرعی‌حکم‌کیا‌ہے؟

سوال:۔

جناب کی توجہ ایک ایسے اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جس کا تعلق دِینِ اسلام سے ہے اور جس کے خلاف دیدہ دلیرانہ اعتراض اور رکیک حملوں سے ایک مسلمان کا دِین و ایمان نہ صرف غارت ہوجاتا ہے بلکہ قرآنی قانون اور ہمارے اس ملک کے قانون کی رُو سے ایسے شخص کے خلاف غداری کے جرم میں مقدمہ چل سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’ڈان‘‘ کے ۷؍جولائی ۱۹۷۸ء کے شمارے میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے، اس میں مضمون نگار نے قرآنی قوانین کا بڑی بے باکی سے مذاق اُڑایا ہے، اس کے افکار کا خلاصہ یہ ہے:

۱:۔ قرآن میں صرف تین چار قانون ہیں، مثلاً: نکاح، طلاق، وراثت لیکن یہ قانون تو پیغمبرِ اِسلام کی بعثت سے پہلے بھی جاہل عربوں میں رائج تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں کچھ اضافے اور اصلاح کی۔

۲:۔ قرآنی قانون کو حرفِ آخر سمجھنا اور یہ کہ ان میں کسی قسم کی تبدیلی اور اصلاح نہیں ہوسکتی، ایسا موقف ایک خاص گروہ کا ہے، جو صحیح نہیں، بلکہ ایسے اعتقاد کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر لے کر پھرنے کے بجائے اسے اُتار پھینکنا چاہئے، تاکہ موجودہ زمانے کی ترقی یافتہ قوموں کی رفتار کا ہم ساتھ دے سکیں۔

۳:۔ ہم نے اپنی دقیانوسی مذہبی ذہنیت سے اپنے اُوپر ترقی کی راہیں بند کرلی ہیں۔

۴:۔ ہمارے چار اِماموں کے فیصلے بھی حرفِ آخر نہیں، وہ حدیثوں سے ہٹ کر قیاس کے ذریعے فیصلے کرتے تھے۔

۵:۔ ’’مسلمان قوم ہی دُنیا کی بہترین قوم ہے‘‘ ایسے غلط عقیدے کی بنا پر مسلمان غرور سے اِتراتے پھرتے ہیں، یہ قرآن کے مطابق صحیح نہیں۔

۶:۔ اب وقت آگیا ہے کہ قرآنی قانونوں کی از سرِ نو تشریح کی جائے، اور اس میں آج کے ترقی یافتہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی اور اِصلاح کی جائے۔

۷:۔ کیونکہ قرآنی قوانین بقول بدرالدین طیب جی (بمبئی ہائی کورٹ کے جج) نامکمل ہیں، مثلاً: وراثت کا قانون نامکمل ہے اور اس میں اصلاح ضروری ہے۔

۸:۔ قرآنی قانون نامکمل ہیں، برخلاف اس کے آج کل اینگلوسیکشن یا فرنچ قانون مکمل ہے، اور ان قانون دانوں کی صدیوں کی کاوش اور دریافت کی بدولت یہ قوانین آج دُنیا بھر میں رائج ہیں، ان میں بہت کچھ مواد اسلامی قانون میں لینے کی ضرورت ہے۔

۹:۔مسلمانوں کو آج اس زمانے میں تیرہ سو سالہ پُرانی زندگی جینے پر مجبور کرنا زیادتی ہے، وغیرہ۔

احقر کی گزارش ہے کہ ایسے خیالات رکھنے والا اور اَخبار میں ان خیالات کا پرچار کرنے والا مسلمان کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا اس کے خلاف اسلامی قانون اور ہمارا ملکی قانون حرکت میں نہیں آسکتا؟ ہماری وزارتِ قانون اور وزارتِ مذہبی اُمور ایسے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے کیوں خاموش ہے؟ کیا یہ شخص ایسے غیراسلامی پَرچار سے ہزاروں بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ نہیں کر رہا؟ اور کیا آج جبکہ سارا ملک اسلامی نظام رائج کرنے کا متفقہ مطالبہ کر رہا ہے، اس کو یہ شخص غارت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے؟ کیا اس کی یہ کوشش نظریۂ پاکستان، جس کے طفیل یہ ملک وجود میں آیا ہے، غیرقانونی اور غیراسلامی نہیں؟ میرے خیال میں تو اس شخص کو اس قدر چھوٹ نہیں دینی چاہئے، ایسے زہریلے پروپیگنڈہ کا اس کے شروع میں ہی مکمل طور پر قلع قمع کردینا چاہئے، کیونکہ ایسے اسلام دُشمن گروہ اس ملک میں نظامِ اسلام رائج ہونے کے خلاف منظم سازش کر رہے ہیں، اور اس کو ہماری خاموشی سے فروغ مل رہا ہے۔

جواب:۔

آپ نے ’’ڈان‘‘ کے مضمون نگار کے جن خیالات کو نقل کیا ہے، یہ خالص کفر و اِلحاد ہے،(۱) اور یہ شخص زِندیق اور مرتد کی سزا کا مستحق ہے، اسی کے ساتھ ’’ڈان‘‘ اخبار بھی قرآنِ کریم کی توہین کے جرم کا مرتکب ہوا ہے، اس لئے یہ اَخبار بند ہونا چاہئے، اور اس کے مالکان اور ایڈیٹر کو زَندقہ پھیلانے کی سزا ملنی چاہئے۔

  1. (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱، طبع پشاور)۔