بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

ایک‌نام‌نہاد‌ادیبہ‌کی‌طرف‌سے‌اسلامی‌شعائر‌کی‌توہین

سوال:۔

اسلام آباد میں گزشتہ دنوں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس برائے خواتین منعقد ہوئی، جس میں عالَمِ اسلام کی جید عالمِ دِین خواتین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں جہاں اسلام کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے کام ہوا، وہاں بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو توجہ طلب ہیں۔ ٹیلی ویژن کی ایک ادیبہ نے کہا کہ: مردوں میں کوئی نہ کوئی کجی رکھی گئی ہے، یہ قدرت کی مصلحت ہے کہ حضور ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ کے بیٹا نہیں تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باپ نہیں تھے (بحوالہ رپورٹ روزنامہ ’’جسارت‘‘ ص:۲، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۸۶ء)۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیے کہ ایسا کیوں تھا؟ اور ایک اسلامی حکومت میں ایسی خواتین کے لئے کیا سزا ہے؟

جواب:۔

حدیث شریف میں ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اس کو سیدھا کرنا ممکن نہیں، اگر اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی۔(۱)

ادیبہ صاحبہ نے جو شاید اس اجتماع کے شرکاء میں سب سے بڑی عالمِ دِین کی حیثیت میں پیش ہوئی تھیں، اپنے اس فقرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ بالا ارشاد کے مقابلے کی کوشش کی ہے۔

ادیبہ صاحبہ کی عقل و دانش کا عالم یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادوں کے عمر نہ پانے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کو نقص اور کجی سے تعبیر کرتی ہیں، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ! حالانکہ اہلِ فہم جانتے ہیں کہ دونوں چیزیں نقص نہیں، کمال ہیں، جس کی تشریح کا یہ موقع نہیں۔ رہا یہ کہ ایک اسلامی حکومت میں ایسی دریدہ دہن عورتوں کی کیا سزا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعاً ایسے لوگ سزائے ارتداد کے مستحق اور واجب القتل ہیں۔(۲)

  1. (۱) حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’وعنہ (أی: أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان المرأۃ خلقت من ضلع لن تستقیم لك علٰی طریقۃ ۔۔۔ وان ذھبت تقیمھا كسرتھا۔‘‘ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۸۰، باب عشرۃ النساء)۔
  2. (۲) قال أبو یوسف: وأیما رجل مسلم سبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أو كذبہ أو عابہ أو تنقّصہ فقد کفر باللہ تعالٰی ۔۔۔ فإن تاب وإلّا قتل وكذٰلك المرأۃ۔ (رسائل ابن عابدین ج:۱ ص:۳۲۴، طبع سھیل اکیڈمی)۔