موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
نمازکیاہانتکرنےاورمذاقاُڑانےوالاکافرہے
سوال:۔
ایک عورت نے اپنے خاوند کو نماز پڑھنے کو کہا اور دُوسرے لوگوں سے بھی کہلوایا تو خاوند نے جواب دیا کہ: ’’اللہ تعالیٰ کیا ہگنے موتنے کی جگہ کو اُونچا کرنے سے ہی راضی ہوتا ہے؟‘‘ عورت صلوٰۃ وصوم کی نہایت پابند ہے، اس کو کسی نے یہ کہا ہے کہ تیرے خاوند کا تجھ سے نکاح باقی نہیں رہا، کیونکہ اس نے عبادت کا مذاق اُڑایا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس طرح دوبارہ نکاح کرنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ جہاں وہ آئندہ حرکت نہیں کرے گا، وہاں دُوسرے لوگ جو اس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں وہ بھی باز آجائیں گے۔
جواب:۔
اس شخص کا یہ کہنا کہ: ’’کیا اللہ تعالیٰ ہگنے موتنے کی جگہ کو اُونچا کرنے ہی سے راضی ہوتا ہے؟‘‘ نماز کی اہانت اور اس کا مذاق اُڑانے پر مشتمل ہے، اور دِین کی کسی بات کا مذاق اُڑانا اور اس کی حقارت کرنا کفر ہے،(۱) اس لئے یہ شخص کلمۂ کفر بکنے سے مرتد ہوگیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہوگئی۔ اگر وہ اپنے کلمۂ کفر سے توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوجائے تو نکاح کی تجدید ہوسکتی ہے،(۲) اور اگر اس کو اپنے کلمۂ کفر پر کوئی ندامت نہ ہو اور اس سے توبہ نہ کرے تو اس کی بیوی عدّت کے بعد دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
- (۱) وصحّ بالنّصّ ان كل من استھزأ باللہ تعالٰی ۔۔۔ أو باٰیۃ من القراٰن، أو بفریضۃ من فرائض الدِّین ۔۔۔ فھو کافر ۔۔۔ الخ۔ (کتاب الفصل ابن حزم ص:۲۵۵، ۲۵۷، اکفار الملحدین ص:۶۴، طبع پشاور)۔
- (۲) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (در مختار، باب المرتد، ج:۴ ص:۲۴۶، طبع ایچ ایم سعید)۔

