موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
تحقیرِسنتکےمرتکبکےساتھکیساسلوککیاجائے؟
سوال:۔
موجودہ زمانے میں اکثر لوگ تحقیرِ سنت کے سبب دائرۂ اسلام سے خارج ہوتے ہیں، یعنی مرتد ہوجاتے ہیں، ایسی صورت میں ان سے کھانا پینا، میل جول، نمازِ جنازہ سب تعلقات ناجائز ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟
جواب:۔
جس شخص کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ اس نے کسی سنت کی تحقیر کی ہے یا اس کا مذاق اُڑایا ہے، اس کا حکم مرتد کا ہے،(۱) اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کے ساتھ تو وہی معاملہ کیا جائے جو کسی مرتد سے کیا جاتا ہے، لیکن جس کے بارے میں یقینی ذریعے سے معلوم نہ ہو کہ اس نے کسی سنت کا مذاق اُڑایا ہے، محض احتمال کی بنا پر اس کو مرتد سمجھنا اور اس سے مرتدوں کا سا سلوک کرنا صحیح نہیں۔(۲)
- (۱) ویکفر بقولہ ۔۔۔ وباستخفافہ لسُنَّۃ من السُّنن۔ (بحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۰، باب أحکام المرتدین)۔
- (۲) وینبغی للعالم اذا رفع إلیہ ھٰذا ان لَا یبادر بتکفیر أھل الْإسلام مع انہ یقضی بصحۃ بإسلام المکرہ ۔۔۔ وأیضًا لَا یکفر بالمحتمل، لأن الکفر نھایۃ فی العقوبۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۲۴، باب المرتد)۔

