موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
’’مُلَّا‘‘کہہکرشوہرکامذاقاُڑانےوالیکاشرعیحکم
سوال:۔
ایک شخص جو کہ پانچوں وقت کا نمازی پرہیزی ہے، محلے کی مسجد میں مؤذِّن ہے، اس کی بیوی اسے طنزیہ انداز میں ’’مُلَّا‘‘ کہہ کر اکثر مذاق اُڑاتی ہے، نہ تو نماز پڑھتی ہے، نہ ہی غیروں سے پردہ کرتی ہے۔ کیا بیوی کے اس طرح طنزیہ انداز میں ’’مُلَّا‘‘ کہنے سے اس شخص کا نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
جواب:۔
اگر اس کی بیوی نماز اور اَذان کا مذاق اُڑاتی ہے تو اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، وہ توبہ کرکے دوبارہ نکاح کرے۔(۱)
- (۱) والْإستھزاء بأحکام الشرع کفر۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۱)، ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنّکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔۔۔إلخ۔ (الفتاویٰ الشامیۃ ج:۴ ص:۲۴۶)۔

