بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

تمام‌علماء‌کو‌بُرا‌کہنا

سوال:۔

ایک دن باتوں باتوں میں ایک صاحب کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی، وہ اس طرح کہ وہ صاحب کہنے لگے کہ: ایک اسلامی ملک پاکستان سے مال نہیں منگواتا، اس لئے کہ پاکستانی، مال میں بہت کچھ فراڈ اور دھوکا اور ملاوٹ کرتے ہیں تو اس لئے وہ پاکستان سے مال نہیں منگواتے، اور اس پر علماء لوگ کچھ نہیں کہتے۔ پھر کہنے لگے کہ: یہ کیسے علماء ہیں کہ ایک دن اخبار میں کوئی خبر آتی ہے ’’علماء کا متفقہ فیصلہ‘‘ پھر دُوسرے دن اس علماء کے متفقہ فیصلے کی تردید آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے۔ تو کہنے لگا کہ: یہ کیسے علماء ہیں کہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ اور پھر کہنے لگا کہ: یہ سب کچھ پیٹ کے مسئلے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، عیش کرتے ہیں، اور لوگوں سے پیسہ بٹورتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سب علماء کا لفظ مت استعمال کیجئے، اگر آپ کو کسی سے کوئی شکایت ہے تو اس کا نام لے کر شکایت کریں، بغیر نام لئے سب علماء کو بُرا بھلا کہنا اِیمان کے ناقص ہونے کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم! اس مسئلے پر روشنی ڈالئے کہ ان کا اس طرح سب علماء کو بُرا کہنا صحیح ہے؟

جواب:۔

علماء کی جماعت میں بھی کمزوریاں ہوسکتی ہیں، اور بعض عالم کہلانے والے غلط کار بھی ہوسکتے ہیں، لیکن بیک لفظ تمام علماء کو بُرا بھلا کہنا غلط ہے، اور اس سے ایمان کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہئے۔(۱)

  1. (۱) قال صاحب البزازیۃ تحت كلمات الکفر: والْإستخفاف بالعلماء لکونھم علماء، إستخفاف بالعلم والعلم صفۃ اللہ منحہ فضلًا علٰی خیار عبادہ لیدلوا خلقہ علٰی شریعتہ نیابۃً عن رسلہ، واستخفافہ ھٰذا یعلم انہ إلٰی من یعود؟ (فتاویٰ عالمگریریۃ مع بزازیۃ ج:۶ ص:۳۳۶)۔ أیضًا قال الشامی: فلو بطریق الحقارۃ کفر لأن اھانۃ أھل العلم کفر علی المختار۔ (شامی ج:۴ ص:۷۲ طبع ایچ ایم سعید)۔ أیضًا وفی الخلاصۃ: من أبغض عالمًا من غیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر، قلت: الظاھر أنہ یکفر لأنّہ اذا أبغض العالم من غیر سبب دنیوی أو أُخروی فیکون بغضہ لعلم الشریعۃ۔ (شرح فقہ الاكبر ص:۲۱۳)۔