موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
صحابہکرامؓکوکھلمکھلاگالیدینےوالےوالدینسےتعلقرکھنا
سوال:۔
والدین اگر کھلم کھلا گھر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خلفائے ثلاثہ کو بُرا بھلا اور غلیظ قسم کی گالیاں دیں تو ایسی صورت میں ان کا منہ بند کرنا چاہئے یا دُعا کرنی چاہئے؟ اور کیا ایسے والدین کی بھی فرمانبرداری ضروری ہے؟
جواب:۔
ان سے کہہ دیا جائے کہ وہ یہ حرکت نہ کریں، اس سے ہمیں اِیذا ہوتی ہے، اگر باز نہ آئیں تو ان سے الگ تھلگ ہوجائیں۔ ان کا منہ بند کرنے کے بجائے ان کو منہ نہ لگائیں۔(۱)
- (۱) قال اللہ تعالٰی: ﵟ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ ﵞ النساء ١٤٠۔۔۔إلخ۔ أی إنكم إذا ارتکبتم النھی بعد وصولہ إلیكم ورضیتم بالجلوس معھم فی المکان الذی یکفر فیہ بآیات اللہ ویستھزأ وینتقص بھا، وأقررتموھم علٰی ذٰلك، فقد شارکتموھم فی الذی ھم فیہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۹۷ طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

