بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

کیا‌’’صحابہ‌کا‌کوئی‌وجود‌نہیں‘‘‌کہنے‌والا‌مسلمان‌رہ‌سکتا‌ہے؟

سوال:۔

ایک شخص کا کہنا ہے کہ: ’’بعض صحابہ کا کوئی وجود نہیں ہے، ان لوگوں کا نام کیوں لیتے ہو؟‘‘ مولانا صاحب! آپ ہمیں قرآن و اَحادیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا وہ شخص جو اس قسم کی باتیں کرتا ہے، وہ اسلام کے دائرے میں ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں علمائے دِین کیا فرماتے ہیں؟

جواب:۔

اسلام کے دائرے سے تو خارج ہوں یا نہ ہوں، لیکن عقل و فہم کے دائرے سے بہرحال خارج ہیں۔ اور اگر یہ بات اس شخص نے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بغض کی بنا پر کہی ہے تو ایسا شخص منافق و زِندیق ہی ہوسکتا ہے۔ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل، اولاد اور صحابہؓ سے بھی محبت رکھے۔(۱)

  1. (۱) ونحب أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ولَا نتبرأ من أحدٍ منھم ونبغض من یبغضھم ۔۔۔ وحبھم دِین وإیمان وإحسان وبغضھم کفر ونفاق وطغیان۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۱۲)۔