بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

صحابہؓ‌کا‌مذاق‌اُڑانے‌والا‌گمراہ‌ہے‌اور‌اس‌کا‌ایمان‌مشتبہ‌ہے

سوال:۔

جو شخص صحابہؓ کا مذاق اُڑائے اور حضرت ابوہریرہؓ کے نام مبارک کے معنی بلی چلی کے کرے۔ نیز یہ بھی کہے کہ: میں ان کی حدیث نہیں مانتا۔ کیا وہ مسلمان ہے؟

جواب:۔

جو شخص کسی خاص صحابی کا مذاق اُڑاتا ہے، وہ بدترین فاسق ہے۔ اس کو اس سے توبہ کرنی چاہئے، ورنہ اس کے حق میں سوئِ خاتمہ کا اندیشہ ہے۔ اور جو شخص تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ۔۔۔ معدودے چند کے سوا ۔۔۔ گمراہ سمجھتے ہوئے ان کا مذاق اُڑاتا ہے، وہ کافر اور زِندیق ہے،(۱) اور یہ کہنا کہ میں فلاں صحابیؓ کی حدیث کو نہیں مانتا ۔۔۔ نعوذ باللہ۔۔۔ اس صحابیؓ پر فسق کی تہمت لگانا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، دِین کا ایک بڑا حصہ ان کی روایت سے منقول ہے، ان کا مذاق اُڑانا اور ان کی روایات کو قبول کرنے سے انکار کرنا، نفاق کا شعبہ اور دِین سے اِنحراف کی علامت ہے۔

  1. (۱) اذا رأیت الرجل ینتقص أحدًا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم أنہ زِندیق۔ (الْإصابۃ ج:۱ ص:۱۰)۔