بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

سنت‌کا‌مذاق‌اُڑانا‌کفر‌ہے

سوال:۔

ایک سوال کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کا مذاق اُڑانا یا اس کے بارے میں کوئی ناشائستہ بات کہنا کفر واِرتداد ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے بچائے، ایسے شخص کو فوراً توبہ کرنی چاہئے اور اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے، اگر توبہ نہ کرے تو مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق کرلینا چاہئے۔‘‘

آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں کتبِ معتبرہ مثلاً: فتاویٰ عالمگیری یا فتاویٰ شامی اور دیگر کتب کے حوالہ جات مع عبارت تحریر فرمادیں جس سے واضح ہوتا ہو کہ ایسے شخص کو اپنے نکاح اور اِیمان کی تجدید کرنی چاہئے۔

جواب:۔

۱:۔ فتاویٰ بزازیہ برحاشیہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

’’وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ إِذَا اسْتَخَفَّ بِسُنَّةٍ أَوْ حَدِيْثٍ مِنْ أَحَادِيْثِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَفَرَ، وَتَحْتَ هٰذَا الْأَصْلِ فُرُوْعٌ كَثِيْرَةٌ ذَكَرْنَاهَا فِي الْفَتَاوَىٰ۔‘‘(الفتاوی الھندیۃ، کتاب السیر، الباب التاسع فی أحکام المرتدین ج:۶ ص: ۳۲۸)

۲:۔ فتایٰ عالمگیری میں ہے:

’’مَنْ لَمْ يُقِرَّ بِبَعْضِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ أَوْ لَمْ يَرْضَ بِسُنَّةٍ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ فَقَدْ كَفَرَ۔‘‘ (الفتاوی الھندیۃ ج:۲ ص:۲۶۳)

۳:۔ نیز فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’إذَا قَالَ: ’’چہ نعز رسمی ست دہقان را کہ طعام خوردند ودست نشویند‘‘قَالَ إِنْ كَانَ تَهَاوُنًا بِالسُّنَّةِ يَكْفُرْ۔‘‘ (الفتاوی الھندیۃ ج:۲ ص:۲۶۵)

۴:۔ درمختار (مع حاشیہ شامی) میں ہے:

’’مَنْ هَزَلَ بِلَفْظِ كُفْرٍ ارْتَدَّ وَإِنْ لَمْ يَعْتَقِدْهُ لِلِاسْتِخْفَافِ، فَهُوَ كَكُفْرِ الْعِنَادِ۔‘‘

(الدر المختار مع ردّ المحتار، کتاب الجہاد، باب المرتد ج:۴ ص:۲۲۲)

علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کے تحت طویل کلام فرمایا ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

’’وَبِاسْتِخْفَافِهِ بِسُنَّةٍ مِنَ السُّنَنِ۔‘‘

(البحر الرائق، باب أحکام المرتدین، کتاب السیر ج:۵ ص:۱۲۱)

اس قسم کی عبارتیں حضراتِ فقہاء کی بے شمار ہیں، جن میں تصریح کی گئی ہے کہ کسی سنت کا مذاق اُڑانا کفر واِرتداد ہے، بلکہ یہ مسئلہ خود قرآنِ کریم میں مصرّح ہے:

ﵟقُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦكُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ ٦٥ لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ ﵞ(سورة التوبة ٦٥ و٦٦ )