بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

دِین‌کی‌کسی‌بھی‌بات‌کا‌مذاق‌اُڑانا‌کفر‌ہے

سوال:۔

کوئی شخص کفر کے الفاظ بولتا ہے، مثلاً: ’’روزہ وہ رکھے جو بھوکا ہو‘‘، یا ’’روزہ وہ رکھے جس کے گھر میں گندم نہ ہو‘‘، ’’نماز میں اُٹھک بیٹھک کون کرے؟‘‘ یا اسی طرح کا اور کوئی کلمۂ کفر بولے تو کیا اس کا ایمان ختم ہوجاتا ہے؟ اس کی نماز، روزہ، حج، صدقات اور زکوٰۃ ختم ہوجاتے ہیں، اور اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ اس کو اب کیا کرنا چاہئے؟ کیا نکاح دوبارہ پڑھائے؟ اور توبہ کس طرح کرے؟ اگر وہ توبہ نہیں کرتا ہے اور عورت کے ساتھ مباشرت کرتا ہے جبکہ بیوی کے ساتھ نکاح تو جاتا رہا، کیا وہ زنا کا مرتکب ہوتا ہے؟ اب وہ کس طرح پھر سے مسلمان ہوگا؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب دیں، نامعلوم کتنے شخص اس میں مبتلا ہیں؟

جواب:۔

دِین کی کسی بات کا مذاق اُڑانا کفر ہے۔(۱) اس سے ایمان ساقط ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو اپنے کلماتِ کفریہ سے توبہ کرکے اور کلمۂ شہادت پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہئے۔نکاح بھی دوبارہ کیا جائے۔ اگر بغیر توبہ یا بغیر تجدید نکاح کے بیوی کے پاس جائے گا تو بدکاری کا گناہ دونوں کے ذمہ ہوگا۔(۲)

  1. (۱) الْاستھزاء بحكم من أحکام الشرع کفر۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۱۷، طبع دھلی)۔
  2. (۲) ما یکون کفرا اتفاقًا یبطل العمل والنّکاح وأولَادہ أولَاد الزنا ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع ردّ المحتار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔