موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
ویڈیوگیمزکیدُکانمیںقرآنکافریملگانا
سوال:۔
ویڈیو گیمز کی ایک دُکان میں تیز میوزک کی آواز، نیم عریاں تصویریں دیواروں پر لگی ہوئی، جدید دور کے ترجمان، لڑکے اور لڑکیاں گیمز کھیلنے میں مصروف اور کھلے ہوئے قرآن کا فریم لگا ہوا، دُکان کے مالک لڑکے سے کہا: یہ قرآن کی بے حرمتی ہے کہ ان تمام چیزوں کے ہوتے ہوئے تم نے اس کا فریم بھی لگایا ہوا ہے۔ کہنے لگا کہ: یہ ان تمام چیزوں سے اُوپر ہے۔ پوچھا: کیوں لگایا؟ کہا: برکت کے لئے! اس سے پہلے کہ میں کوئی قدم اُٹھاؤں، آپ سے عرض ہے کہ کیا ایسے مقامات پر قرآن یا اس کی آیات کا لگانا جائز ہے؟ اگر یہ بے حرمتی ہے تو مسلمان کی حیثیت سے ہماری کیا ذمہ داری ہوگی؟ کیونکہ یہ چیزیں اب اکثر جگہوں پر دیکھی جاتی ہیں۔
جواب:۔
ناجائز کاروبار میں ’’برکت‘‘ کے لئے قرآن مجید کی آیات لگانا بلاشبہ قرآنِ کریم کی بے حرمتی ہے،(۱) مسلمان کی حیثیت سے تو ہمارا فرض یہ ہے کہ ایسے گندے اور حیاسوز کاروبار ہی کو رہنے نہ دیا جائے، جس گلی، جس محلے میں ایسی دُکان ہو، لوگ اس کو برداشت نہ کریں۔ قرآنِ کریم کی اس بے حرمتی کو برداشت کرنا تو پورے معاشرے کے لئے اللہ تعالیٰ کے قہر کو دعوت دینا ہے۔
- (۱) لَا یلقی فی موضع یخل بالتعظیم۔ (ہندیۃ ج:۵ ص:۳۲۴، باب الخامس فی ادب المسجد والقرآن)، وایضًا تعظیم القرآن والفقہ واجب، كذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۱۶)۔

