بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

غصّے‌سے‌قرآن‌مجید‌کسی‌کو‌مارنا

سوال:۔

میں اپنی بہن کو قرآن شریف کا سبق سکھاتا ہوں، ایک مرتبہ اس کو سبق صحیح یاد نہیں تھا، اور غلطیاں بہت آرہی تھیں، تو میں نے غصّے سے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا، اس نے غصّے سے قرآن شریف اُٹھایا اور میرے اُوپر مارا، آیا اس سے کفر تو لازم نہیں آیا؟ اگر آیا تو کس پر؟

جواب:۔

تم اہل نہیں ہو کہ اپنی بہن کو قرآن مجید پڑھاؤ، اور تمہاری بہن نالائق ہے کہ اس نے قرآن مجید مارنے کے لئے استعمال کیا، دونوں توبہ کرو اور اپنے ایمان کی تجدید کرو، اور اگر نکاح کیا ہوا ہے تو نکاح بھی دوبارہ کرو۔ غصّے میں ایسی حرکتیں کرنا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔(۱)

  1. (۱) وفی تتمۃ الفتاویٰ: من استخف بالقراٰن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع کفر ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۰۵)۔ وفی شرح الوھبانیۃ لشرنبلالی: ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح وأولَادہ أولَاد الزنا ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الدر المختار علیٰ ہامش ردّ المحتار، باب المرتد ج:۴ ص:۲۴۶)۔