بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

قرآن‌پاک‌کی‌توہین‌کرنے‌والے‌کی‌سزا

سوال:۔

امیر خان کی اپنے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ کسی چھوٹی سی بات پر لڑائی ہوگئی تھی، امیر خان اور اس کے بیٹوں نے چھوٹے بھائی اور اس کے گھر والوں کو مارا پیٹا اور زخمی کیا۔ آخر پولیس تک نوبت پہنچی، کچھ عرصہ بعد امیر خان کے چھوٹے بھائی نے جرگے کے ساتھ قرآن لے کر بڑے بھائی سے معافی مانگی کہ آپ میرے بڑے بھائی ہیں، جو غلطیاں آپ نے کی ہیں، وہ بھی میں اپنے سر لیتا ہوں، آپ خدا کے لئے اور قرآن پاک کے صدقے مجھے معاف فرمائیں۔ لیکن امیر خان نے پورے جرگے کے سامنے قرآن مجید کے لئے یہ توہین آمیز الفاظ استعمال کئے:

’’قرآن مجید کیا ہے؟ یہ تو صرف ایک چھاپہ خانے کی کتاب ہے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں، آپ مجھے سات ہزار روپے دیں یا میرے ساتھ کیس لڑیں۔‘‘

الف:۔ کیا یہ بندہ مسلمان کہلانے کا مستحق ہے جو کلام پاک کی توہین کرے؟

ب:۔ کیا ایسا بندہ مرجائے تو اس کا جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

ج:۔ اس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، برتاؤ کرنا کیسا ہے؟

جواب:۔

قرآن مجید کی توہین کفر ہے،(۱) یہ شخص اپنے ان الفاظ کی وجہ سے مرتد ہوگیا ہے، اور اس کا نکاح باطل ہوگیا۔(۲) اس پر توبہ کرنا لازم ہے، مرتد کا جنازہ جائز نہیں،(۳) نہ اس سے میل جول ہی جائز ہے۔(۴)

  1. (۱) من استخف بالقرآن ۔۔۔ کفر۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۰۵، طبع دھلی)۔
  2. (۲) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح وأولَادہ أولَاد الزنا۔ (درمختار مع حاشیہ ردّ المحتار ج:۴ ص: ۲۴۶)۔
  3. (۳) ﵟ وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ ﵞ التوبة ٨٤
  4. (۴) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ ﵞ الممتحنة ١۔