موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
’’تَبَّتْیَدَا‘‘پر’’تبتکریم‘‘نکلجانا
سوال:۔
عرض ہے بندۂ ناچیز سے ایک لغزش سہواً سرزد ہوگئی ہے، وہ یہ کہ اہلیہ نے کہا کہ: دیکھیں بچے مجھ پر ہنس رہے ہیں، میں نے پوچھا: کیوں؟ تو کہا کہ: میں’’تَبَّتۡ يَدَآ ‘‘ پڑھ رہی ہوں، بچے کہہ رہے ہیں کہ آپ غلط پڑھ رہی ہیں، اس پر مجھ سے بلا قصد واِرادہ بے ساختہ لفظ ’’تِبَّت کریم‘‘ نکل گیا۔ ذہن میں یہ بات تھی کہ’’تَبَّتْ‘‘ سے ملتا جلتا لفظ ہے ’’تِبَّت کریم‘‘ اِس لئے شاید بچے ہنسے ہوں۔ اب اِس وقت سے میں شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہوں کہ آیا کہیں میں دائرۂ ایمان سے خارج تو نہیں ہوگیا، مقامی مسجد کے خطیب صاحب سے رُجوع کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ: یہ شیطانی وسوسہ ہے، لا حول ولا قوۃ پڑھتے رہو، لیکن اس کے باوجود بھی میرا دِل مطمئن نہیں ہو رہا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ میرے کہے ہوئے الفاظ ’’تبت کریم‘‘ جو کہ بلا قصد و ارادہ نکل گئے، اِن الفاظ کی ادائیگی سے قرآنِ پاک کی بے ادبی تو نہیں ہوگئی، اور اِس بے ادبی کی وجہ سے میں کہیں دائرۂ ایمان سے تو خارج نہیں ہوگیا، اگر ایسا ہے تو اِس کا کفارہ اور اِزالہ کیسے ممکن ہے؟ جلد از جلد جواب عنایت فرماکر مجھے اِس ذہنی اذیت سے نجات دِلائیں، میں آپ کا ازحد مشکور و ممنون ہوں گا۔
جواب:۔
چونکہ بلاقصد یہ الفاظ صادر ہوئے، اس لئے ایمان سے خارج نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کیا جائے کہ اس سہواً غلطی کو معاف فرمائیں۔(۱)
- (۱) وفی الفاظ: تکلم بھا خطأ، نحو ان أراد ان یقول: لَا اِلٰہ اِلّا اللہ، فجریٰ علٰی لسانہ بلا قصد ان مع اللہ اِلٰـھًا آخر ۔۔۔ لَا یکفر فیہ قطعًا ۔۔۔ لٰكن یؤمر بالْإستغفار والرجوع ۔۔۔الخ۔۔ (ہدیۃ المہدیین ص:۱۳ طبع استنبول، وایضًا فی شرح الأشباہ والنظائر للحموی ج:۱ ص:۴۴، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔

