بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

قرآن‌مجید‌کی‌توہین‌کے‌مرتکب‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

ہمارے والد صاحب نے گزشتہ دنوں گھریلو (خانگی) جھگڑے کے درمیان ایک ایسی کتاب جس میں زیادہ تر قرآنِ پاک کی سورتیں لکھی تھیں ،اپنے ہاتھ سے اُٹھاکر زمین پر ’’دے ماری‘‘ اور ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار۔ چھوٹے بھائی کے بقول: انہوں نے اسے پیروں سے بھی مسلا تھا۔ جبکہ اس جمعہ کو انہوں نے قرآن مجید کو اپنی بیگم سے جھگڑے کے دوران دو بار زمین پر اُچھالا یعنی اپنی بیگم کو کھینچ کر مارا اور تیسری بار انہوں نے اس کے صفحے ہاتھوں سے نوچ نوچ کر کمرے میں پھیلادئیے، جبکہ وہ صفحات آدھے آدھے شہید ہوچکے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس طرح قرآنِ پاک اس سے پہلے بھی کئی بار شہید کرچکے ہیں۔ اب مجھے پوچھنا یہ ہے کہ آیا وہ مسلمان رہ گئے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ ان کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ (طرہ یہ کہ انہیں اپنے اس عمل پر رَتی بھر ندامت یا شرمندگی نہیں ہے)۔ اور یہ بھی بتائیں کہ ہم اولادیں اب ان کا ادب کریں یا نہیں؟ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی صریح بے حرمتی کرنے والا شخص اس قابل ہے یا نہیں؟ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ مولانا صاحب! برائے خدا آپ اس مسئلے کا جواب جلد از جلد دے دیجئے گا اور اپنے کالم میں بھی اس کو ضرور شامل کیجئے گا۔ کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ والدین اسے اپنی آنکھوں سے پڑھ لیں، کیونکہ میں کئی بار ڈھکے چھپے الفاظ میں نکاح کی باقیت پر شک ظاہر کرچکی ہوں، لیکن انہیں میری بات کا اعتبار نہیں ہے۔

جواب:۔

قرآنِ کریم کی اس طرح بے حرمتی کرنے والا مسلمان نہیں رہتا، بلکہ کافر و مرتد ہوجاتا ہے،(۱) اور آپ کی والدہ کے بقول یہ شخص اس سے پہلے بھی قرآنِ کریم کی بے حرمتی کرچکا ہے، اس لئے اس شخص کو لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے اور نکاح کی بھی تجدید کرے۔ جب تک یہ اپنے ایمان کی تجدید نہیں کرتا، اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ نہ کیا جائے،(۲) اگر مرے تو اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے،(۳) اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے،(۴) اور اس کی بیوی اس کے لئے حرام ہے۔ وہ چونکہ تمہارا باپ ہے، اس لئے جس طرح بھنگی کو کھانا دیا جاتا ہے، اس کو دے دیا جائے۔

  1. (۱) من استخف بالقرآن ۔۔۔ کفر۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۰۵)۔ وفی الفتح من ھزل بلفظ الکفر ارتد، وان لم یعتقدہ للإستخفاف ۔۔۔الخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۴ ص:۲۲۲، باب المرتد)۔
  2. (۲) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح وأولَادہ أولَاد الزنا ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد ، عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔
  3. (۳) ﵟ وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ ﵞ التوبة ٨٤
  4. (۴) واذا مات (المرتد) ۔۔۔ لم یدفن فی مقابر المسلمین۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱، الفن الثانی)۔