موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
کیاپاکستانکےبہتسےلوگسلمانرشدینہیںہیں؟
سوال:۔
روزنامہ جنگ کے توسط سے میں آپ کی اور علمائے دِین کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ آج کل سلمان رشدی اور اس کی ’’شیطانی کتاب‘‘ کے سلسلے میں دُنیائے اسلام میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور غم و غصّے کا اظہار ہو رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس گستاخی پر یقینا وہ قابلِ گردن زدنی ہے، مگر تعجب اس بات پر ہے کہ دیگر ممالک کے علاوہ خاص طور سے ایک طبقہ پاکستان میں بہت پہلے سے اسلام کے خلاف سرگرمِ عمل ہے، جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلمان رشدی سے کم نہیں، بلکہ زیادہ شیطان صفت ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خاص طور سے اور دیگر انبیائے کرام اور ختم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال کرتے ہیں۔ اس فرقے بلکہ دِین کے بانی کا لٹریچر اور کتابیں لاتعداد شائع ہوتی ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ تو کم، مگر انتہائی دِل آزاری کا موجب ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس کا بانی (نعوذ باللہ) رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشن کو اَدھورا کہتا ہے اور اس کی تکمیل کے لئے کہتا ہے کہ میں آیا ہوں (گویا دُوسرا جنم لے کر)، اور میں محمد ہوں اور میں بھی آخری نبی ہوں (خطبہ اِلہامیہ ص:۱۰۸)، اسی لئے اس کے ماننے والے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے کہتے ہیں کہ: ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، اور کلمہ پڑھ کر بھی سنادیتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں آج تک پاکستان میں (سوائے بھٹو صاحب مرحوم) کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی، اور نہ ہی علمائے کرام نے بھرپور قدم اُٹھایا۔ صرف مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے ذریعے کام ہو رہا ہے کہ کچھ دِین سے محبت رکھنے والے اور پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہی ہے، عوام الناس مستفید نہیں۔ ان جھوٹے دعوے داروں کو بے نقاب کرنے کے لئے اعلیٰ پیمانے پر کام کیا جائے اور خاص طور سے ان مسلمانوں پر جو کم تعلیم یافتہ یا ناخواندہ ہیں، مبلغوں اور علمائے کرام کا وفد پاکستان کے ہر دیہات، قصبے اور شہر میں جاکر تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو بتائیں کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے؟ نبوّت، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی، اور اس کے بعد جو نبی آئے گا وہ جھوٹا اور کاذب ہے۔ اسلام ہی اللہ کا پسندیدہ دِین ہے اور کوئی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں: نماز روزے کے علاوہ تمام دِینی فرائض میں سب سے زیادہ اہمیت آج اس کام کی ہے، اس لئے بیشتر وقت اس نیک کام کے لئے وقف کردیا جائے کہ یہی عین عبادت اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت و محبت کا ثبوت ہے۔ کیا یہ دُرست نہیں ہوگا کہ ان منافقین دِین پر بھی کام کیا جائے اور انہیں تبلیغ کے ذریعے انتہائی نرم و شائستہ لہجے میں تائب ہونے اور توبہ کرنے کے لئے کم از کم ایک سال کا نوٹس دیا جائے، ورنہ بصورتِ دیگر ان سے بائیکاٹ کرلیا جائے اور ان کے خلاف شرعی اور قانونی چارہ جوئی کی جائے، یا پھر ملک بدر کردیا جائے۔ کیونکہ یہ لوگ پاکستان میں رہ کر پاکستان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق ہم مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کی زبانیں میٹھی اور قلوب سیاہ ہیں۔
جواب:۔
مجھے آپ کی رائے سے پورا اتفاق ہے۔

