بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

کیا‌گستاخِ‌رسول‌کو‌حرامی‌کہہ‌سکتے‌ہیں؟

سوال:۔

بعض لوگ سورۂ قلم کی آیت:۱۳ ’’زَنِيمٍ‘‘سے استدلال کرکے گستاخِ رسول کو حرامی کہتے ہیں۔ کیا یہ دُرست ہے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یا کسی بھی رسول کی گستاخی کرنا بدترین کفر ہے(۱) (نعوذ باللہ)، مگر قرآنِ کریم کی اس آیتِ کریمہ میں جس شخص کو’’زَنِيمٍ‘‘ کہا گیا ہے، اس کو گستاخیٔ رسول کی وجہ سے’’زَنِيمٍ‘‘ نہیں کہا گیا، بلکہ یہ ایک واقعہ کا بیان ہے کہ وہ شخص واقعتا ایسا ہی بدنام اور مشکوک نسب کا تھا۔(۲) اس لئے اس آیتِ کریمہ سے یہ اُصول نہیں نکالا جاسکتا کہ جو شخص گستاخیٔ رسول کے کفر کا ارتکاب کرے، اس کو ’’حرامی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔

  1. (۱) قال أبو یوسف: وایما رجل مسلم سبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أو كذّبہ أو عابہ أو تنقّصہ فقد کفر باللہ تعالٰی۔ (کتاب تنبیہ الولَاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الأنام، ملحقہ رسائل ابن عابدین ج:۱ ص:۳۲۴)۔
  2. (۲) (عن) سعید بن المسیّب وعکرمۃ ھو ولد الزّنٰی الملحق فی النسب بالقوم۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۸ ص:۲۳۴)۔