بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

گستاخی‌پر‌اللہ‌تعالیٰ‌سے‌معافی‌مانگیں‌اور‌اِیمان‌و‌نکاح‌کی‌تجدید‌کریں

سوال:۔

میں نے ایک دن شیطان سے مخاطب ہوکر یہ کہا کہ: ’’اے شیطان! اب میں اللہ پر، اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتا، اب میں تجھ پر (شیطان پر) ایمان لاتا ہوں، اب تو میرا فلاں بُرا کام کردے‘‘ لیکن وہ بُرا کام نہیں ہوا، یا شیطان نے نہیں کیا، میں اب دوبارہ مسلمان ہونا چاہتا ہوں، براہِ مہربانی مجھے دوبارہ مسلمان ہونے کا طریقہ بتادیجئے۔

جواب:۔

آپ نے بڑی نادانی کی بات کی، خدانخواستہ اگر وہ بُرا کام آپ کے حسبِ منشا ہوجاتا تو آپ کے دوبارہ مسلمان ہونے کا راستہ ہی بند ہوجاتا۔ توبہ! توبہ! کتنی بُری بات ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرڈالے۔ آپ کلمہ شریف پڑھ کر اپنے اسلام و ایمان کی تجدید کریں،(۱) اور اس گستاخی و بے ادبی پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو اپنے نکاح کی بھی تجدید کریں۔ (۲)

  1. (۱) وتوبتہ ان یأتی بالشھادتین۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۵)۔ وفی الشامی: فقالت ۔۔۔ انا اشھد ان لَا إلٰہ إلّا اللہ وان محمد رسول اللہ کان ھٰذا توبۃ منھا۔ (شامی ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔
  2. (۲) وصح بالنصّ ان كل من استہزأ باللہ تعالٰی أو بملك ۔۔۔ فھو کافر۔ (کتاب الفصل لِابن حزم ج:۶ ص:۲۵۵، بحوالہ إکفار الملحدین ص:۶۴)۔ ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (در مختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔