بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

’’اللہ‌کچھ‌نہیں‌ہے،‌حضرت‌عیسیٰ‌سب‌کچھ‌ہیں‘‘‌کہنے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم؟

سوال:۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی تھی اور (نعوذ باللہ) یہ کہا تھا کہ: ’’اللہ کچھ نہیں ہے‘‘ اور دُوسرے بھی خراب کلمات کہے تھے۔ یہ بھی کہا تھا کہ: ’’آج سے ہم عیسائی ہیں اور حضرت عیسیٰ کو مانتے ہیں‘‘ اور شاید یہ بھی کہا تھا کہ: ’’حضرت عیسیٰ ہی سب کچھ ہیں‘‘ اور دروازے پر اسٹیکر سے صلیب کے نشان بنالئے تھے، اور شاید خود بھی یہ نشان عیسائیوں کی طرح ادا کئے تھے، (اور شاید دُوسرے مذاہب کے بانیوں کا نام بھی لیا تھا اور شاید ان کے ہم مذہب ہونے کا بھی کہا تھا)، اس وقت میرے گھر کے اور افراد بھی تھے۔ یہ واقعہ پہلے کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مجھ سے بھول چوک ہوگئی ہو، لکھتے وقت۔ میں اب تقریباً پانچوں وقت کی نماز پڑھتی ہوں اور کلمہ بھی پڑھتی ہوں، اب آپ بتائیے کہ میں کیا کروں؟ اور کس طرح اس گناہ کے عذاب سے بچوں؟ کیا اس طرح کہنا شرک ہوا؟ اور کیا میں اب تجدیدِ ایمان کروں؟

جواب:۔

جو الفاظ آپ نے لکھے ہیں، ان کے کفر و شرک ہونے میں کیا شبہ ہے۔۔۔؟ تجدیدِ ایمان اسی وقت ضروری تھی، تجدیدِ ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ ان الفاظ سے توبہ کرکے کلمہ شریف پڑھ لیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے اس گستاخی کی معافی مانگ لی جائے، تجدیدِ ایمان کے بعد تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) قالوا: سبُ اللہ تعالٰی کفر محض، وھو حق ﷲ، وتوبۃ من لم یصدر منہ إلّا مجرد الکفر الأصلی أو الطاری مقبولۃٌ مسقطۃ للقتل بالْإجماع ۔۔۔ الخ۔ (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ص:۳۹۱)، ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الفتاویٰ الشامیۃ ج:۴ ص:۲۴۶)۔