بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

’’بن‌بلائے‌تو‌اللہ‌کے‌گھر‌بھی‌نہ‌جاؤں‘‘‌کہنے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم؟

سوال:۔

رمضان شریف میں کچھ دوست دعوت پر مدعو تھے، جب وہ جانے لگے تو مجھے بھی کہا، تو میں نے کہا کہ: ’’میں تو مدعو نہیں ہوں، نقلِ کفر، کفر نباشد کے مصداق بن بلائے تو اللہ تعالیٰ کے گھر بھی نہ جاؤں‘‘ مطلب خودداری کا تھا، کیا یہ الفاظ کلمۂ کفر میں آتے ہیں؟

جواب:۔

مطلب تو چاہے کچھ بھی ہو، لیکن الفاظ گستاخانہ ہیں، اس لئے اس سے توبہ کی جائے اور تجدیدِ ایمان کی جائے، اور اگر نکاح ہوچکا ہے تو نکاح کی بھی تجدید کی جائے، واللہ اعلم!(۱)

  1. (۱) وصح بالنصّ ان كل من استہزأ باللہ تعالٰی أو بملك ۔۔۔ فھو کافر۔ (کتاب الفصل لِابن حزم ج:۶ ص:۲۵۵، بحوالہ إکفار الملحدین ص:۶۴)۔ ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (در مختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔