موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
’’اگرخدابھیکہےتونہمانوں‘‘کلمۂکفرہے
سوال:۔
میں نے ایک دن ایک شخص سے یہ کہا کہ چلو ہمارے مولوی صاحب سے مسئلے مسائل پوچھتے ہیں، اگر وہ غلط ہوگا تو ہم بھی اسے چھوڑ دیں گے، اور اس کی بات نہیں سنا کریں گے، تو اس نے جواب میں کہا کہ: ’’میں اس کے پاس قطعاً نہیں جائوں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ اور اس کو نہیں مانوں گا، چاہے میری گردن بھی کٹ جائے‘‘ میں نے پھر اِصرار کیا کہ بات پوچھنے میں کیا حرج ہے، وہ انکار کرتا رہا اور میں اصرار کرتا رہا، حتیٰ کہ اس نے کہا کہ: ’’اگر خدا بھی آکر کہہ دے کہ اس مولوی صاحب کو صحیح مانو اور اس کی بات سنو تو بھی میں نہیں مانوں گا، اور نہ بات سنوں گا۔‘‘ جواب طلب بات یہ ہے کہ اس کہنے سے اس کے ایمان و اسلام اور اعمال پر کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟
جواب:۔
اس شخص کے یہ الفاظ کہ ’’اگر خدا بھی آکر کہہ دے۔۔۔‘‘ کلمۂ کفر ہیں، اس کو ان الفاظ سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) اذا وصف اللہ بما لَا یلیق یکفر۔ (بزازیۃ علٰی ھامش ھندیۃ ج:۶ ص:۳۲۳)۔ اذا قال: ’’لو أمرنی اللہ بكذا لم أفعل‘‘ فقد کفر۔ كذا فی الکافی۔ (الفتاوی الہندیۃ ج:۲ ص:۲۵۸، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔

