موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
خداکیشانمیںگستاخیکرنےوالیکاشرعیحکم
سوال:۔
ایک عورت خدائے بزرگ و برتر کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوتی ہے، مثلاً: نعوذ باللہ! وہ یہ کہتی ہے کہ: ’’خدا بہرا ہے، سنتا ہی نہیں ہے‘‘ وغیرہ تو اس کے بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟ اور نیز اگر شادی شدہ ہو تو نکاح پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب:۔
ایسے گستاخانہ الفاظ سے ایمان ضائع ہوجاتا ہے،(۱) اس کو توبہ کرکے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۲)
- (۱) اذا وصف اللہ بما لَا یلیق یکفر۔ (البزازیۃ علی الہندیۃ ج:۶ ص:۳۲۳، کتاب ألفاظ ما یکون إسلامًا أو کفرًا)۔
- (۲) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح وأولَادہ أولَاد الزنا، وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳، کتاب السیر)۔

