موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
زبردستیاسلامیاَحکاماتکیتعلیمدینا
سوال:۔
اگر ایک مسلمان بھائی دُوسرے مسلمان بھائی کو نماز کے لئے کہتا ہے اور وہ بندہ اس پر عمل نہیں کرتا اور اِنکار کرتا ہے، تو کیا نماز کے لئے کہنے والا بندہ گناہ گار ہے؟ یا اس شخص کو اس وقت تک کہنا چاہئے جب تک مان نہ جائے؟ اور اگر وہ نہ مانا اور اس درمیان اس کی موت واقع ہوجائے تو کیا وہ منکر کہلائے گا؟ اور اس کی سزا اللہ کے نزدیک کیا ہوگی؟ کیا نماز کے لئے کہنے والا بندہ بھی اس سزا کا مستحق ہوگا، کیونکہ وہ اس شخص کو نماز کے لئے راغب نہ کرسکا؟
جواب:۔
مسلمان بھائی کو نماز کے لئے حسنِ تدبیر کے ساتھ ضرور کہنا چاہئے، مگر اتنا اصرار نہ کیا جائے کہ وہ انکار کردے۔ اگر ’’اِنکار‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ: ’’میں تیرے کہنے سے نہیں پڑھوں گا‘‘ تو کافر نہیں ہوگا، اور اگر یہ مطلب ہے کہ وہ نماز کی فرضیت ہی کا منکر ہے تو کافر ہوجائے گا۔(۱)
- (۱) وقول الرجل لَا اصلی یحتمل اربعۃ أوجہ: أحدھا لَا اصلی، لأنی صلیت۔ والثانی: لَا اصلی بأمرك فقد امرنی بھا من ھو خیر منك۔ والثالث: لَا اصلی فسقا مجانۃ، فھٰذہ الثلاثۃ لیست بکفر۔ والرابع: لَا اصلی اذ لیس یجب علیّ الصلاۃ ولم اومر بھا یکفر۔ (الہندیۃ ج:۲ ص:۲۶۸، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔

