بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

جنت،‌دوزخ‌کے‌منکر‌اور‌آواگون‌کے‌قائل‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

اگر کوئی مسلمان کہہ دے کہ: ’’میرا اِیمان جنت، دوزخ پر نہیں، بلکہ ہندوؤں کے عقیدے آواگون پر ہے‘‘ تو کیا وہ مسلمان رہ سکے گا؟ مرنے کے بعد ایسے شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا؟ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی؟ اس کے لئے مسلمان دُعائے مغفرت کرسکتا ہے؟ اَحکامِ شریعت سے مطلع فرماکر اللہ کی خوشنودی حاصل کریں، جزاک اﷲ!

جواب:۔

جو شخص جنت و دوزخ کا منکر ہو، یا ہندوؤں کے آواگون کا قائل ہو، وہ مسلمان نہیں۔(۱) اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا،(۲) نہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، نہ اس کے لئے دُعائے مغفرت ہے۔(۳)

  1. (۱) من أنکر الأھوال ۔۔۔ والجنّۃ والنّار کفر۔ (شرح فقہ الاكبر ص:۲۰۵)۔
  2. (۲) اذا مات (المرتد) أو قتل علی ردتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین، ولَا أھل ملۃ، وانما یلقٰی فی حفرۃ کالكلب۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱ الفن الثانی، طبع إدارۃ القرآن)۔
  3. (۳) ﵟ وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ ﵞالتوبة ٨٤،ﵟ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ ﵞ التوبة ١١٣۔