موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
بلاتحقیقحدیثکاانکارکرنا
سوال:۔
میں نے ایک حدیث مبارک پڑھی تھی کہ جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے پاس سے نکل کر اس کے سر پر لٹکتا رہتا ہے، پھر جب وہ فراغت کے بعد پشیمان ہوتا ہے تو ایمان واپس آجاتا ہے۔ یہ حدیث میں نے اپنے ایک دوست کو اس وقت سنائی جب زنا کا موضوع زیرِ گفتگو تھا، اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ یہ حدیث ہے، تو اس نے جواب دیا کہ: ’’چھوڑو! یہ مولویوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔‘‘ پہلا سوال یہ ہے کہ یہ حدیث مستند اور معتبر ہے یا ضعیف؟ دُوسرا سوال یہ ہے کہ میرے دوست کا یہ کہنا کہ یہ ’’مولویوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں‘‘ کہاں تک صحیح ہے؟ اس کا جواب ذرا وضاحت اور تفصیل سے دیجئے گا۔
جواب:۔
یہ حدیث مشکوٰۃ شریف (ص:۱۷) پر صحیح بخاری کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔(۱) آپ کے دوست کا اس کو ’’مولویوں کی گھڑی ہوئی باتیں‘‘ کہنا، جہالت کی بات ہے۔ ان کو اس سے توبہ کرنی چاہئے اور بغیر تحقیق کے ایسی باتیں کہنے سے پرہیز کرنا چاہئے، ورنہ بعض اوقات ایمان ضائع ہوجاتا ہے۔(۲)
- (۱) وعنہ (أی: أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یزنی الزانی حین یزنی وھو مؤمن ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۷، باب الكبائر وعلامات النفاق، کتاب الْإیمان)۔
- (۲) الفتاویٰ التاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۴۴۔ والْإستخفاف بالعلماء لکونھم علماء إستخفاف بالعلم والعلم صفۃ اللہ منحہ فضلًا علٰی خیار عبادہ لیدلوا خلقہ علٰی شریعتہ نیابۃً عن رُسلہ، واستخفافہ ھٰذا یعلم أنہ إلٰی من یعود؟ (بزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۶ ص:۳۳۶ طبع رشیدیہ)، أیضًا قال الشامی: فلو بطریق الحقارۃ کفر لأن إھانۃ أھل العلم کفر علی المختار۔ (شامی ج:۴ ص:۷۲، مطلب فی الجرح المجرد، طبع ایچ ایم سعید)۔

