بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

نماز‌روزے‌کو‌غیرضروری‌قرار‌دینے‌والا‌پیر‌مسلمان‌ہی‌نہیں

سوال:۔

ہم لوگ مسلمانوں کے فرقے سے ہیں، ہماری برداری کی اکثریت گجراتی بولنے والوں کی ہے، ہم لوگوں پر اپنے آباء و اَجداد کے رائج رُسوم، طریقے و رواج کے اثرات ہیں، جن کے مطابق ہم لوگ بڑی پابندی سے اپنے رُسوم و طریقے پر عمل کرتے ہیں، جن کی بنا پر ہم لوگ بہت مصروف ہونے کی بنا پر نماز نہیں پڑھتے۔ بعض ہماری رُسوم ایسی ہوتی ہیں کہ کافی دیر تک ہوتی ہیں، یا رات کا کافی حصہ گزارنے پر ختم ہوتی ہیں۔ رمضان میں ہم روزہ نہیں رکھتے، ہمارے پیر صاحب کا حکم نہیں ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ ڈھائی فیصد کی بجائے ہم پیر صاحب کے کہنے پر دو روپے پر دو آنے دیتے ہیں، جسے پیر صاحب نے ’’رسوند‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ ذکر کردہ تمام رُسوم، طریقے کو ہم گجراتی میں الگ الگ نام سے پکارتے ہیں۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ چونکہ مسلمان ہم سب ہیں، کیا ہمیں ان رُسوم اور طریقے و رواج کو اَپنائے رکھنا چاہئے یا کہ ترک کردیں؟ کیونکہ ان کی بنا پر ہماری عبادت مختل ہوتی ہے، اور کیا ہم لوگ ان رُسومات کی بنا پر کہیں گناہگار تو نہیں ہو رہے؟

جواب:۔

نمازِ پنج گانہ، روزہ اور زکوٰۃ شرعی فرائض ہیں، کسی پیر کے کہنے سے ان کو چھوڑ دینا جائز نہیں،(۱) اور اگر پیر ان فرائض کو غیرضروری قرار دیتا ہے تو وہ مسلمان ہی نہیں۔(۲) جتنی رسمیں ہیں، ان کا دِین سے کوئی تعلق نہیں۔

  1. (۱) عن النواس بن سعمان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘ رواہ فی شرح السُّنَّۃ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۲۱، کتاب الْامارۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
  2. (۲) والصلوۃ المفروضات خمس وعدد ركعاتھا ۔۔۔ سبع عشرۃ ۔۔۔ وھٰذہ الخمس من أسقط وجوب بعضھا أو أسقط وجوبھا كلھا کفر۔ (اصل الدین ص:۱۸۹، ۱۹۰ لِامام عبدالقاھر البغدادی، طبع مکتبہ عثمانیہ لَاہور)۔