موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
نمازکااِنکارکرنےوالاانسانکافرہے
سوال:۔
ایک شخص جو کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا ’’خاص بندہ‘‘ کہتا ہے، اس کے بقول ہمارا کلمہ -نعوذ باللہ- لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِہیں ہے بلکہ کلمہ کچھ یوں ہے: ’’اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيْك لَهُ‘‘۔ ۲:۔پورے دن میں صرف ایک مرتبہ خدا تعالیٰ کو سجدہ کرلیا جائے، بہت ہے۔ یعنی پانچ وقت کی نماز فرض نہیں ہے، نماز پڑھنے کا رُخ کعبۃ اللہ کی مخالف سمت میں ہے۔ ۳:۔رمضان کے روزے فرض نہیں ہیں بلکہ سب دن اللہ کے ہیں، جب چاہیں روزہ رکھیں۔ ۴:۔فطرہ اور زکوٰۃ واجب نہیں ہیں۔ ۵:۔اس وقت جو حج ہو رہا ہے وہ ایک -نعوذ باللہ- دِکھلاوا اور ڈھکوسلا ہے۔ ۶:۔بینک میں پیسہ فکسڈ ڈیپازٹ کروانے سے جو سود یا (منافع) ملتا ہے وہ جائز ہے۔ ۷:۔حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، لیکن یہ بات خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کوئی نبی آئے گا یا نہیں؟ ۸:۔قرآن شریف میں تحریف ہوچکی ہے۔ ۹:۔ولی اللہ نبی کی اُمت میں سے نہیں ہیں۔ یہ میں نے صرف چند موٹی موٹی باتیں لکھی ہیں جبکہ تفصیلاً اس سے بہت کچھ زیادہ ہے۔
جواب:۔
یہ شخص جس کے عقائد آپ نے لکھے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کا منکر اور خالص کافر ہے۔(۱) اور ’’خاص بندہ‘‘ ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اَحکام آتے ہیں تو یہ شخص نبوّت کا مدعی اور مسیلمہ کذّاب اور مرزا قادیانی کا چھوٹا بھائی ہے اور دعویٔ نبوّت کفر ہے۔(۲)
- (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱، طبع پشاور)۔
- (۲) ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔ (شرح فقہ الأكبر ص:۲۰۲، طبع بمبئی)۔

