بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

مفاد‌کے‌لئے‌اپنے‌کو‌غیرمسلم‌کہنے‌والا‌کافر‌ہوجاتا‌ہے

سوال:۔

رمضان المبارک میں چند ہوٹل دن میں روزے کے دوران بھی کھلے رہتے ہیں، اس کے علاوہ ہندوؤں کے مندروں اور عیسائیوں کے چرچ میں واقع ہوٹل اور کینٹین بھی دن کے اوقات میں کھلے رہتے ہیں، ان ہوٹلوں پر غیرمسلموں کے علاوہ مسلمان روزہ خوروں کی ایک بڑی تعداد کھانا وغیرہ چھپ کر کھاتی ہے، اگر کبھی روزے کے دوران ان میں سے کسی ہوٹل پر پولیس کا چھاپہ پڑجائے تو مسلمان روزہ خور پکڑے جاتے ہیں، وہ سزا کے خوف سے پولیس کے سامنے یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہم مسلمان نہیں ہیں، بلکہ ہندو یا عیسائی ہیں۔ روزہ خوروں کا زبانی یہ اقرار سن کر پولیس انہیں چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک شخص کی بینک میں کافی رقم جمع ہے، جب حکومت کی طرف سے بینک اس رقم میں سے زکوٰۃ کی رقم منہا کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص مسلمان ہوتے ہوئے محض زکوٰۃ کی رقم کو منہا ہونے سے بچانے کے لئے بینک کو تحریری طور پر یہ اقرارنامہ دے دیتا ہے کہ میں غیرمسلم ہوں۔ مہربانی فرماکر یہ بتائیے کہ اس طرح اگر کوئی مسلمان تحریری یا زبانی طور پر خود کے غیرمسلم ہونے کا اقرار کرے تو اس کے ایمان کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟

جواب:۔

یہ کہنے سے کہ: ’’میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ آدمی دِین سے خارج ہوجاتا ہے، مسلمان نہیں رہتا،(۱) ایسے لوگوں کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے،(۲) اور آئندہ کے لئے اس مذموم حرکت سے توبہ کرنی چاہئے۔ روزہ چھوڑنے کے دُوسرے عذر بھی تو ہوسکتے ہیں، کسی کو جھوٹ ہی بولنا ہو تو اسے کوئی اور عذر پیش کرنا چاہئے، اپنے کو غیرمسلم کہنا حماقت ہے۔

  1. (۱) ولو قیل لہ: ألست بمسلم؟ فقال: لَا، یکفر۔ إذ معناہ عند الناس ان أفعالہ لیست أفعال المسلمین۔ (جامع الفصولین ج:۲ ص:۳۱۰، طبع سلامی کتب خانہ، بنوری ٹاؤن کراچی)۔
  2. (۲) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنّکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (در مختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، کتاب الجھاد، طبع ایچ ایم سعید)۔