موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
’’میںعیسائیہوگیاہوں‘‘کہنےوالےکاشرعیحکم
سوال:۔
میرا دوست زاہد حسین گزشتہ چند یوم سے گھریلو تنازع کی وجہ سے نیند کی گولیاں کھا رہا تھا، اسی دوران زاہد کے کچھ دوست ملنے آئے جن میں دو عیسائی مذہب کے تھے، مگر بعد میں میرا دوست ٹھیک ہوگیا اور خواہ مخواہ اداکاری کرنے لگا کہ میں اپنا مذہب تبدیل کر رہا ہوں اور عیسائی ہو رہا ہوں۔ میں نے اسے اس وقت کچھ جواب نہ دیا، مگر دُوسرے روز میرے دُوسرے دوست کامران خلیل کے ساتھ آیا اور مجھے پھر کہا کہ: ’’میں نے اپنا مذہب تبدیل کرلیا ہے، اور اب میں عیسائی ہوگیا ہوں‘‘ میرے پوچھنے پر زاہد نے کہا کہ: ’’خدا نے مجھے کیا دیا ہے؟ اور جو میرے دوست (عیسائی) ہیں، انہوں نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، مجھے تسلی دی ہے وغیرہ‘‘ زاہد کے ایسا کہنے سے اس کا مذہب تبدیل ہوگیا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جی ہاں! وہ دِینِ اسلام سے نکل گیا۔ جو شخص جھوٹ موٹ بھی کہہ دے کہ: ’’میں مسلمان نہیں رہا، بلکہ میں نے فلاں مذہب اختیار کرلیا ہے‘‘ تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔(۱) اسی طرح اگر کوئی یوں کہہ دے کہ: ’’فلاں مذہب، دِینِ اسلام سے اچھا ہے‘‘ تب بھی وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔(۲)
- (۱) ومن قال: ’’أنا بریٓئٌ من الْإسلام‘‘ ۔۔۔ یکفر فی ھٰذہ الصورۃ بلا خلاف۔ (شرح فقہ اكبر ص:۲۲۷، طبع بمبئی)۔
- (۲) مُعلم صبیان قال: الیھود خیر من المسلمین بکثیر یعطون حقوق مُعلمی صبیانھم یکفر۔ (الفتاوی البزازیۃ علیٰ ہامش الہندیہ ج:۶ ص:۳۳۳، کتاب الفاظ تکون إسلامًا أو کفرًا أو خطأً، السادس فی التشبیہ، طبع بلوچستان بك ڈپو)۔

